افغانستانامریکہانصافبھارتبین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنتجارتجرمنیچینروسسعودی عربکاروبارکرکٹکشمیرکوئٹہگلگت بلتستانیورپ

خدارا پاکستان پر رحم کرو ، سینئر اینکر پرسن و صحافی مبشر لقمان نے حکومتی تباہ کاریوں سے پردہ اٹھا دیا

سینئر اینکر پرسن و صحافی مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آپ یہ الفاظ ماضی میں کئی دفعہ سن چکے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ہر آمر جب بھی آیا اس نے یہ کہا لیکن پھر اس آمر کے ساتھ ساتھ یہ وقت بھی گزر گیا۔ سویلین حکومتیں بھی اس فقرے کا اپنے مفادات کے لیئے استعمال کرتی رہی ہیں لیکن اس وقت میں یہ سمجھتا ہو کہ پاکستان واقعی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اس کی کیا وجہ ہے۔
امریکہ کا افغانستان سے اس طرح بھاگنا کسی بھی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ انیس سال کی لڑائی کے بعد طالبان اپنے آپ کو فاتح سمجھتے ہیں اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ جلد وہ پورے افغانستان پر قبضہ کر لین گے۔ لیکن امریکہ نے اب یہاں نہ رہتے ہوئے بھی غیر روئیتی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس کام کے لیئے افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر اڈوں کے لیئے نہ صرف خود پریشر ڈال رہا ہے بلکہ اس کے قریبی دوستوں سے بھی پریشر ڈلوا رہا ہے،

سینئیر اینکر پرسن و صحافی مبشرلقمان نے مزید کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار ابھی ٹلی نہیں تو یورپ نے پاکستان کے خلاف جی ایس پی کا کٹا کھول دیا ہے، کبھی ہیومن رائٹ کے نام پر تو کبھی تشدد پسندی کے نام پر پاکستان کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ ظاہری سے بات ہے پاکستان کے یہ کبھی بھی مفاد میں نہیں ہو گا کہ اشرف غنی کی حکومت کو سپورٹ کرنے والے پاکستان سے بیٹھ کر طالبان پر بم برسائیں اور اس کابدلہ وہ پاکستان کی مظلوم عوام سے لیں یہاں پر بم دھماکے ہوں معصوموں کا خون بہے۔ اگرپاکستان یہ قدم اگر اٹھائے گا تو انتہائی مجبوری میں اٹھائے گا۔ یہی نہیں پاکستان میں گلگت بلتستان سمیت بلوچستان میں بھی علیحدگی پسندوں کو اربوں ڈالر کی مدد دے کر پاکستان میں بھونچال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان پر پریشر ڈالا جائے گا اسے بتایا جائے گا کہ اگر تم نے یہ نہ کیا تو تمھارے ساتھ کیا ہو سکتا ہے تمھارے کتنے ٹکرے کیئے جائیں گے۔ ایک طرف سے بھارت تم پر یلغار کرے گا دوسری طرف سے طالبان، آئی ایس آئی ایس
اور بھارت کی پراکسیاں تمھاری بوٹیاں نوچیں گے، عالمی ادارے اپنے قرضوں کی ادائیگی پر زور دیں گی اور بہانے بہانے سے تمھیں ڈیفالٹ کرانے کی کوشش کریں گی، یورپ اور امریکہ سے تجارتی پابندیاں لگیں گی اور تمھارے عرب میں پرانے ساتھی بھی تمھارا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تو ایسے میں پاکستان کو انتہائی پھونک پھونک کر قدم اٹھانا ہے اس کا ایک غلط قدم اسے کھائی میں پھینک سکتا ہے۔ الحمدللہ پاکستان کے پاس بہترین دماغ ہیں۔ جہاں پاکستان امریکہ اور چین کی لڑائی میں وجود برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے وہاں پاکستان نے روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں بھی انتہائی کامیابی سے نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کیئے بلکے ایٹمی طاقت بھی بن گیا اسی طرح کا امتحان اور خدشات ہمیں آج بھی درپیش ہیں۔
امریکہ بھارت کے ساتھ ملک کر چین کے خلاف صف بندی کر چکا ہے، اور چین کے تمام اتحادیوں کو گرانا یا اپنے ساتھ ملانا اس کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
لیکن ایسے میں ہم کیا کر رہے ہیں۔۔ کیا ہمارا رویہ بچگانہ ہے یا پھر ہم نے اپنے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ یا ہم میں کھل کر وہ فیصلے کرنے کی ہمت نہیں ہے جسے ہم اپنے ملک کے لیئے بہتر سمجھتے ہیں اور وہ عوامی رائے کے خلاف ہیں

دیکھیں ہم بڑی باتیں سن رہے ہیں کہ کشمیر پر کچہڑی پک رہی ہے کیا کچہڑی پک رہی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں پاکستان کا مغربی بارڈر گرم ہونے والا ہے وہاں مشرقی بارڈر کو ٹھنڈا کیا جائے اس حوالے سے حکمت عملیاں بھی بن چکی ہیں لیکن ہم کر کیا رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق آرمی چیف نے خود بتایا ہے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ وقت کے وزیر اعظم کو بتائے بغیر نہیں کرتے نواز شریف تو دور کی بات شاہد خاقان عباسی کو بھی اہم ایشوز پر اعتماد میں لیا جاتا تھا اور انہیں اگاہ کیا جاتا تھا۔
ظاہری سئ بات ہے عمران خان کو بھی آرمی چیف نے بھارت کے حوالے سے ماضی کی تلخیاں بھلا کر نیا سفر شروع کرنے کی بات کرنے سے پہلے اعتماد میں لیا ہو گا۔ لیکن ہوا کیا۔
اس کے چند دن بعد حماد اظہر نےای سی سی
کی کمیٹی میں بھارت سے تجارت کی اجازت دی، کابینہ میں معاملہ گیا تو اس وقت تک سوشل میڈیا پر میدان گرم تھا کہ جب تجارت بند کی تو اس وقت بھارت نے
آرٹیکل
370
کو ختم کیا تھا کیا وہ اس نے واپس لے لیا ہے جو تجارت کھولی جا رہی ہے تو کابینہ نے اس کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے کمیٹی بنائی جس میں وزارت خارجہ سمیت کئی وزارتوں نے بریفنگ دی اور پھر فیصلہ یہ ہوا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیئے بغیر تجارت نہیں ہو گی۔
ٹھیک ہے جی نہیں ہو گی۔ لیکن آپ سعودی عرب جاتے ہیں وہاں خفیہ بھارتی وفد کے آنے کی اطلاعات آتی ہیں۔ دفتر خارجہ کی بریفنگ جاری ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کشمیر کا حل دو طرفہ مذاکرات سے نکالا جائے گا۔ بھارت جس نے کشمیر پر کبھی بھی کسی دوسرے ملک کی ثالثی قبول نہیں کی اپنی زبان بند رکھتا ہے۔ پاکستان کی حکومت اپنی زبان بند رکھتی ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عوام کو ٹیسٹر لگانے کے لیئے کہا کہ ہمارا کنسرن تو35 اے

ہے جس کے تحت بھارت نے غیر کشمیریوں کو وہاں زمین خریدنے، کاروبار شروع کرنے سمیت لوکل لوگوں والی سہولیات دے دی ہیں تاکہ رائے شماری کی صورت میں وہاں آبادی کا توازن بدلا جا سکے۔
جبکہ آرٹیکل370بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، یہ بات جب میرے سامنے آئی تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا کہ وزیر خارجہ کی سپیڈ بہت تیز ہے اور انہوں نے اتنی جلدی یہ بات کر دی ہے۔
جب پاکستان میں عوامی رائے کو اس کے خلاف دیکھا گیا تو فوری طور پر عمران خان اور وزیر خارجہ نے اس سے ری ٹریک کر لیا ؎۔ اور وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت بحال کیئے بغیر بھارت سے مزاکرات شروع نہیں کیئے جا سکتے۔ بلکل ٹھیک کہا پاکستان کی عوام یہی سننا چاہتی ہے لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آٓرہی کہ پاکستان کے مفاد میں کیا ہے پاکستان کی کیا پالیسی ہے اگر پاکستان کا واقعی یہ موقف ہے تو سعودی عرب میں بریف جاری کرتے وقت اسے کیوں نہیں ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ کیا پاکستان کے وزیر خارجہ اتنے معصوم ہیں کہ انہیں یہ بات تین دن پہلے نہیں پتا تھی کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ا س کا حل صرف اور صرف اقوم متحدہ کی قرار داد میں ہے۔ پہلے یہ بیان کیوں دیا گیا۔ کیا پاکستان کی عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔

کیا کوئی پالیسی ہے کیا کوئی راستہ ہے جو اس حکومت نے چنا ہے۔ کیوں ہر بات کو ٹیسٹر لگا کر عوامی مقبولیت کے مطابق چنا جاتا ہے۔ کیا اس ملک کی خارجہ پالیسی عوام نے بنانی ہے اور اگر آپ کو عوامی رائے کا اتنا ہی خیال ہے تو اس طرح کی شرارت کیوں کر رہے ہو جس سے عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔

میں ہاتھ جوڑ کر اس حکومت سے درخواست کرتا ہوں کے خدا کے لیے پاکستان کو کرکٹ کا میدان نہ سمجھیں، وزیر ایسے بدلے جا رہے ہیں جیسے فیلڈر بھی نہیں بدلے جاتے، حکمت عملی کوئی ہے نہیں۔۔ ایک دن ایک بات کی جاتی ہے اگلے دن دوسری بات کر دی جاتی ہے یہ نہ ہو کہ خدا نہ خواستہ ہم
1971
کی غلطیوں کو کھیل کود میں دھراتے رہیں۔ سنجیدہ کام سنجیدگی سے ہونا چاہیے۔ اسے کھیل تماشا نہیں بنانا چاہیے۔ دشمن اپنی حکمت عملی بنا چکا ہے اور اب اسے آپ کی غلطی کا انتظار ہے۔

جب آپ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یو ٹرن لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا، مشکلات سے گھبرانا نہیں اور جو عزم کر لو اس پر ڈٹ جاو، پھر جب آپ اقتدار میں آتے ہیں تو قوم کو بتاتے ہیں کہتاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔آپ نے قوم کو بتایا کہ قرضہ کسی بھی ملک کے لیئے ٹھیک نہیں ہوتا لیکن آپ نے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ لے لیا۔

آپ نے قوم کو بتایا کہ پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے غریب شخص پر دباو بڑھتا ہے لیکن پھر قیمتیں بڑھانے کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے۔
آپ نے ن لیگ کی میٹرو پر تنقید کی اور کہا کہ یہ پیسہ عوامی فلاح کے لیئے استعمال ہونا چاہیے لیکن پھر آپ نے خیبر بختونخوا میں تاریخی میٹرو بنائی جس کا حشر اور داستانیں پوری قوم نے سنی۔
آپ نے ڈالر بھی مہنگا نہیں کرنا تھا لیکن ڈالر اور اس سے جڑی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
بھارت سے دوستی نہ کرنے کے سیاسی نعرے بھی لگائے گئے، نواز شریف کو مودی کا یار بھی کہا گیا لیکن پھر آپ نے بھارت سے دوستی کرنے کی کوشش کی۔

آپ نے ایمنسٹی سکیم پر تنقید کی لیکن پھر اپنی حکومت میں ایمنسٹی متعارف کروائی۔
آپ نے جاگیرداروں اور روائیتی آزاد امیدواروں کو بھی نہیں لینا تھا۔ آپ نے نظریاتی سیاست کرنی تھی لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ جس کو کہیں جگہ نہ ملکی اسے تحریک انصاف میں جگہ ملی۔

آپ نے یہ سوچے سمجھے بغیر کے پاکستان میں حکمران بغیر سیکیورٹی اور پروٹوکول کے بغیر نہیں چل سکتے ان پر تنقید کی لیکن پھر جب آپ اقتدار میں آئے تو آپ کو پتا چلا کہ یہ ناممکن ہے۔ اور پھر آپ نے وہ سب کچھ لیا جو سابق حکمران لے رہے تھے۔

آپ نے بیرونی دورے کمرشل فلائیٹوں میں کرنے تھے لیکن جہاں تک مجھے یار ہے آپ خصوصی طیارے پر سعودی عرب پہنچے۔آپ نے مختصر کابینہ بنانی تھی لیکن آپ کی کابینہ شائد تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ ہو۔ آپ نے سائیکل پر وزیر اعظم ہاوس جانا تھا جیسے مغرب میں ہوتا ہے لیکن آپ نے پچپن روپے کلومیٹر والے ہیلی کاپٹر کا انتخاب کیا۔

خان صاحب اگر میں آپ کے قول اور فعل کے تضاد سنانا شروع کر دوں تو لوگوں کو سنتے سنتے نیند آ جائے گی، اس لیئے آج کئ لیئے اتنا ہی کافی ہے

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں