اقوام متحدہامریکہایرانبنگلہ دیشبھارتبھوٹانپاکستانحقوقسری لنکاصحتصحت عامہکالم و مضامینکورونا وائرسمالدیپنیپال

عالمی سماجی ایمرجنسی؟ – ایکسپریس اردو

– کالم و مضامین –

اس عالمی وبا سے 32 لاکھ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس عالمی وبا سے 32 لاکھ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان کے بعد ایران اور بھارت کی جانب سے بھی عیدالفطر کے موقع پر کورونا ایس اوپیز پر عملدرآمد کےلیے سخت پابندیاں لگانے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ بھارت کی بعض ریاستوں میں لاک ڈاؤن سے بڑھ کر کورونا کرفیو بھی لگایا جاچکا ہے۔

کورونا نے دنیا کے کئی ایک ممالک کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، جو صحت عامہ و علاج و معالجہ کی سہولیات کے حوالے سے غیر معمولی شہرت رکھتے تھے، جن میں سے ایک بھارت ہے جو دنیا بھر میں ’’فارمیسی کنٹری‘‘کے طور پر شہرت رکھتا تھا۔ جہاں محض آکسیجن کی کمی نے ایسی تباہی مچائی کہ بھارت تو بھارت بلکہ پوری دنیا ہل کر رہ گئی۔ دوسری جانب مغربی ممالک ہیں، جنھیں اپنے ترقی یافتہ اور نام نہاد مہذب ہونے پر ناز ہے، وہ بھی کورونا سے ایسے متاثر ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے سے گلے ملنا تو دور کی بات ہاتھ ملانے سے بھی جاتے رہے ہیں۔

اس وقت دنیا کورونا وائرس سے اس قدر متاثر ہوئی ہے کہ جس سے معاشی تباہی ہی نہیں بلکہ سماجی مسائل نے بھی سر اٹھانا شروع کردیے ہیں۔ پوری دنیا اس وقت نت نئے سماجی و معاشی مسائل کا شکار ہے جبکہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ دنیا بھر میں غربت کے مارے لوگوں کی دادرسی کرنے میں ناکام ہوچکی ہے بلکہ وہ محض عالمی ادارہ صحت کے پلیٹ فارم سے کورونا متاثرین کی گنتی اور ویکسین کی تیاری اور اس کے معیاری ہونے یا نہ ہونے تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ زمینی حقائق کا تقاضا تو یہ تھا کہ اقوام متحدہ کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی لہر کے پیش نظر غریب ممالک میں ’’سماجی ایمرجنسی‘‘ لگانے کا اعلان کرتی، تاکہ ان ممالک میں غریب عوام اور دیہاڑی طبقہ کی کفالت کو یقینی بنایا جاتا، جہاں ان کی حکومتیں اپنے معاشی مسائل اور عدم وسائل کے باعث ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

بلاشبہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، بھوٹان اور نیپال سمیت دیگر خطے کے ممالک ایسے مسائل کا شکار ہیں جو اپنے کم وسائل کی وجہ سے کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے سماجی مسائل کو قابو نہیں کر پارہے ہیں۔ ایسے میں اقوام متحدہ کے ساتھ علاقائی تعاون کی تنظیمیں بھی خاموش دکھائی دیتی ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ’’سارک‘‘ اسلامی ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ اور آسیان سمیت دیگر تنظیمیں یا انجمنیں شامل ہیں، جو اس منظرنامہ سے مکمل طور پر غائب ہیں۔

حالانکہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں مچنے والی تباہی کا محض خلاصہ یہ ہے کہ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر اس وقت کورونا کے کل مصدقہ متاثرین کی تعداد 15 کروڑ، 60 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ اس عالمی وبا سے 32 لاکھ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا ہے جہاں کوویڈ 19 کے تقریباً 3 کروڑ 26 لاکھ سے زیادہ متاثرین ہیں، جبکہ پانچ لاکھ 80 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر ہنگامی صورتحال اختیار کرچکی ہے اور دو کروڑ سے زیادہ متاثرین کے ساتھ یہ دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بنتا جارہا ہے۔ بھارت میں مسلسل کئی روز سے یومیہ چار لاکھ سے زیادہ نئے کیس رپورٹ ہورہے ہیں اور متعدد علاقوں میں لوگ اپنے عزیزوں کےلیے آکسیجن اور وینٹی لیٹرز کا انتظام کرنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں 8 مئی سے 16 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے جبکہ 40 سے 49 برس کے افراد کی ویکسینیشن کا آغاز ہوچکا ہے۔ تاہم عیدالفطر سے پہلے پاکستان میں ہر طرح کی سماجی، سیاسی اور تجارتی سرگرمیوں پر بابندی لگادی گئی ہے۔ تو ایک مرتبہ پھر اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ ترقی یافتہ اور امیر ممالک سے حاصل ہونے والے فنڈز کا منہ غریب ممالک کی طرف کب کھولے گی یا پھر وہ کسی بڑے انسانی المیہ کے انتظار میں ہے ۔اگر ایسا ہے تو پھر اسے بہت جلد خود کو اس المیہ کےلیے تیار کرلینا چاہیے جبکہ حالات کا تقاضا ہے کہ دنیا بھر میں غریب عوام کی بنیادی ضروریات پورا کرتے ہوئے عالمی سطح ’’سماجی ایمرجنسی‘‘ لگا دینی چاہیے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button