امریکہبھارتحقوقدینیاتسیاسی حقوقکشمیرمعیشت

اقوامِ متحدہ ماہرین نے مقبوضہ کشمیر میں ڈیمو گرافی تبدیل کرنے پر خطرےکی گھنٹی بجادی

– آواز ڈیسک –

شیعہ نیوز: نیویارک، اقوامِ متحدہ ماہرین نے مقبوضہ کشمیر میں ڈیمو گرافی تبدیل کرنے پر خطرےکی گھنٹی بجادی اور کہا بھارت نے ستمبر2020 تک ایک لاکھ 44ہزار سے زیادہ ہندوؤں کو کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ ماہرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے میں مصروف ہے، ستمبر2020تک ایک لاکھ 44ہزار سے زیادہ ہندوؤں کو کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا اور بھارت نےمقامی 377683مسلمان کشمیریوں کوڈومیسائل دینے سے انکار کیا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلیاں کشمیریوں کو مذہبی، ثقافتی ،سیاسی حقوق سے دورلے جائیں گی، تبدیلیوں کے نتیجے میں مقامی کشمیریوں کےگروپس کی سیاسی نمائندگی میں کمی آئے گی۔

اقوامِ متحدہ ماہرین نے کہا ہے کہ کشمیر وہ واحد ریاست ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیاد ہ ہے،کشمیر کا ایک خاص اسٹیٹس بھی خطرے میں ہے، یوکے پارلیمنٹ اس حوالے سے پہلے بھی آواز اٹھا چکی ہے۔

یاد رہے وفاقی وزیر اُمور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور نے شوپیاں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں چارکشمیری نوجوانوں کی شہادت پر مذمت کرتے ہوئے کہاتھا کہ بھارت کشمیر کی ڈیمو گرافی کو تبدیل کرنے کی مسلسل کوشش کررہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جس کے بعد بھارتی شہریوں اور غیر مقامیوں کو کشمیر میں جائیدادیں خریدنے اور انہیں مقامی پتے کے شناختی کارڈ جاری کیے جارہے ہیں۔

خیال رہے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک مقامی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں