ایوی ایشنبین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنتعلیمڈپلومیٹکصحتصنعتکراچیکورونا وائرسلاہور

سندھ اعدادوشمار کے مطابق خرچ کرتا تو پیرس بن جاتا: چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں نو ماہ بعد کرونا وائرس ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کہتی ہے کہ اتنے روپے کراچی اور اتنے مریضوں پر خرچ کر دیتے ہیں۔ بتائے گئے اعدادوشمار کے مطابق تو سندھ پیرس بن جانا چاہیے تھا۔ تعلیم پر لکھا گیا خرچ دو ہزار چھے سو ڈالرز خرچ کرنےکا کہا گیا ہے۔ اس خرچ پر تو تمام سکول ہارورڈ بن جانے چاہیے تھے۔

عدالت نے گزشتہ سماعت پر اٹھائے گئے تمام معاملات جس میں این ڈی ایم اے، سول ایوی ایشن میں پائلٹس کی جعلی ڈگری کا معاملہ، ادویات کی قیمتوں اور طبی آلات پر بات کی۔

سندھ کے علاوہ تمام ایڈوکیٹ جنرلز کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ چئرمین این ڈی ایم اے لیفٹینیٹ جنرل اختر نواز سول لباس میں کمرہ عدالت میں موجود تھے تاکہ عدالت کو این ڈی ایم اے سے متعلق سوالات کے جواب دے سکیں۔

سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈریپ اور این ڈی ایم اے کی رپورٹس جمع کرا دی ہیں۔ 30 اپریل کو حکومت نے غیر رجسٹرڈ ادویات کی درآمد کا این او سی جاری کیا ہے۔

ادویات و آکسیجن سلینڈر کا معاملہ

اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا، کوئی تحقیقات کی ہے کہ ادویات آخر کیوں منگوائی جا رہی ہیں؟

غیر رجسٹرڈ آلات اور ادویات کو امپورٹ کی اجازت کیوں دی ہے؟ حکومت کو کیسے معلوم ہوگا کہ کونسی چیز منگوائی جا رہی ہے؟ کرونا سے نمٹنے کے لیے طبی آلات کی دستیابی کی کیا صورتحال ہے؟

عدالت میں موجود ڈریپ حکام نے عدالت کو بتایا کہ وینٹی لیٹر سمیت کئی آلات ملک میں تیار ہو رہے ہیں۔ ملک میں کرونا سے متعلق کسی بھی دوائی کی قلت نہیں ہے۔ ایکٹمرا انجیکشن کے علاوہ کئی ادویات کا کئی ماہ کا سٹاک موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان اسٹیل مل سے آکسیجن کی بڑی مقدار مل سکتی ہے۔ اسٹیل ملز کے آکسیجن پلانٹ کو فعال کیا جا سکتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اسٹیل مل کا آکسیجن پلانٹ کم و بیش 40 سال پرانا ہے۔ آکسیجن پلانٹ فعال کرنے میں ایک ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو آکسیجن کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ فراہم کریں گے۔

خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو آکسیجن سلینڈرز کے معاملے پر بتایا کہ قیمت مقرر نہ ہونے پر سپلائرز من مانے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر ڈریپ حکام نے عدالت کو بتایا کہ آکسیجن وزارت صنعت کے ماتحت ہے ہمارا اس سے تعلق نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے آکسیجن سلنڈرز کی قیمت مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ وزارت صنعت و پیداوار دو دن میں آکسیجن سلینڈر کی قیمت کا تعین کرے۔ قیمت کے تعین کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے۔ عدالت نے قیمت مقرر کرنے کا حکم کے پی حکومت کی درخواست پر جاری کیا ہے۔

این ڈی ایم اے :

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات گڑ بڑ ہیں۔ الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی۔ فیکٹری کے لیے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی ادائیگی نقد کی گئی۔ چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی۔ بتایا جائے کہ چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟ کیا چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی خریداری کے لیے استعمال ہوتی ہے؟ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ چارٹرڈ جہاز بھی ایمبیسی کے ذریعے ہی کروایا گیا۔ کیا چائنہ میں پاکستانی سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ یہ کہتے ہوئے عدالت نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا نہیں معلوم۔ ہر چیز میں این ڈی ایم اے کا ذکر ہے، چار پانچ مرتبہ آرڈر دیا تو کچھ دستاویزات دی گئیں۔ اب ان دستاویزات کا بھی معلوم نہیں یہ کیا ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قرنطینہ سینٹر پر کروڑوں روپے خرچ کردیے گئے۔ سب کو معلوم ہے حاجی کیمپ قرنطینہ سینٹر کا کیا بنا۔ حاجی کیمپ پر کروڑوں روپے لگا دیے گئے نہ پانی ہے وہاں نہ ہی رنگ کیا گیا، کیا چیئرمین این ڈی ایم اے نے قرنطینہ سینٹر کا دورہ کیا ہے؟

سپریم کورٹ نے  چیئرمین این ڈی ایم اے کو طلب کیا تو بتایا گیا وہ کمرہ عدالت میں ہی موجود ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹینیٹ جنرل اختر نواز روسٹرم پہ گئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم آپ نے چارج کب لیا ہے۔

چیف جسٹس نے چئیرمین این ڈی ایم سے کہا کہ چئیرمین این ڈی ایم اے نے ذمہ لیا ہے تو قرنطینہ سینٹرز کا کل دورہ بھی کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام قرنطینہ سینٹرز کا وزٹ کرنے کا حکم دیا اور قرنطینہ سینٹرز کی حالت پر رپورٹ طلب کر لی۔

پنجاب :

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت کو ایمبولینسز کی ضرورت ہے، ان گاڑیوں کو خریدنے کے لیے عدالت کی جانب سے فنڈز جاری کرنے کی اجازت چاہیے۔ چیف جسٹس نے اس معاملے پر کہا کہ اس کیس کو پانچ ممبر بنچ کے سامنے مقرر کیا جائے گا۔

سندھ :

چیف جسٹس نے سندھ کے معاملے پر کہا کہ سندھ کی شرح خواندگی تو سو فیصد ہونی چاہیے تھی۔ یہ اربوں روپے 2013 سے 2017 میں خرچ ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کے پیش نہ ہونے پر وضاحت طلب کر لی اور کہا کہ بظاہر تعلیم پر بھاری خرچ کرنے کے باوجود سندھ میں کچھ تبدیل نہیں ہوا۔

عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے پندرہ روز میں عدم حاضری اور اخراجات پر جواب طلب کر لیا۔

عدالت نے کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں سیکرٹری صحت سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔

سول ایوی ایشن جعلی لائسنس کا معاملہ

کرونا وائرس ازخود نوٹس سماعت کے دوران سول ایوی ایشن کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ جعلی لائسنس والے پائلٹس کے خلاف مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ پائلٹس نے امتحانات میں اپنی جگہ کسی اور کو بٹھایا تھا، امتحانات کے لیے سول ایوی ایشن کے ملازمین کو پیسے بھی دیے گئے۔ جعلی لائسنس کے لیے دیے گئے پیسے کی منی لانڈرنگ بھی ہوئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو ٹرائل کورٹ کے لیے گواہ ملیں گے نہ ہی شواہد۔ تمام ملزمان عدالتوں سے باعزت بری ہوجائیں گے۔ شواہد نہ ہونے پر نوے فیصد ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔

سول ایوی ایشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے حوالے سے منی ٹریل بھی مل چکی ہے۔ عبوری چالان جمع ہو چکا ہے اور  گواہان بھی موجود ہیں۔ پائلٹس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہوئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عالمی سطح پر کیا ہوتا ہے عدالت کو اس سے سروکار نہیں۔ عدالتیں صرف فائل دیکھ کر فیصلہ کرتی ہیں۔ عدالت نے سول ایوی ایشن کو مقدمات کی بھرپور پیروی کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں