اسرائیلامریکہایرانبین الاقوامیتارکین وطنسعودی عربفلسطینکشمیرکینسرلبنان

یوم القدس مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں کیسے اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے؟ شفقنا خصوسی

یوم القدس ایک ایسا دن ہے جس دن جس دن پوری دنیا کے مسلمان اسرائیلی صیہونی ریاست کے فلسطین پر غیر قانونی قبضے اور اسرائیل کی مسلح افواج کے بے گناہ فلسطینیوں پر بیہمانہ مظالم کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اسرائیل نے نہ صرف فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے بلکہ بے گناہ فلسطینیوں کو مسلسل بہیمانہ بمباری اور تشدد کا نشانہ بھی بنا رہا ہے۔ فلسطین پیغمبروں کی سرزمین اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ اپنی اسی اہمیت کی وجہ سے اس سرزمین کق ہمیشہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔70 سال قبل مغربی طاقتوں نے ساز باز کرکے اس مقدس سرزمین پر قبضہ کر لیا جس پر امام خمینی رحمتہ اللہ نے اس کو کینسر کا نام دیا۔ گزشتہ 70 برسوں سے صیہونی ریاست نے اسلامی سرزمین کے دل پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ فلسطینیوں کی نقل مکانی 1947 میں شروع ہوئی اور 1948 میں یہ بے دخلی نقبہ کے دن پر عروج پر پہنچ گئی۔ اس روز 65000 فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نکال دیا گیا اور آج چالیس لاکھ فلسطینی  اپنی مادر وطن سے باہر پڑوس کے ممالک میں مختلف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

یہ تمام فلسطینی اپنے دل میں وطن کا درد لیے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں اس لیے اسلامی دنیا کو چاہیے کہ وہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والی اسرائیلی مظالم پر ہرگز خاموش نہ رہے۔ امام حمینی رحمتہ اللہ علیہ نے ماہ رمضان کے آخری جمعے کو بین الاقوامی قدس ڈے کا نام دے کر فلسطینی تحریک کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے ۔ اس دن کی ایک وجہ یہ بھی ہے اس دن صیہونیوں نے لبنان میں ایک اور جرم کا ارتکاب بھی کیا تھا۔ بعد میں امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ قدس ڈے ظالموں کے خلاف مظلوموں کی جدوجہد کا دن ہے۔ اسلامی انقلاب اس وقت برپا ہوا جب فلسطینی دنیا کے نقشے سے مکمل طور پر غائب ہونے کے قریب تھے۔ مغربی کی پشت پناہی پر چلنے والے صیہونی ریاست کے خلاف جنگ میں عربوں کی شکست پر مسلمانوں کے دل ٹوٹ گئے تھے اور وہ مایوس ہوگئے تھے۔ اس جنگ میں کامیابی کے بعد اسرائیل نے فلسطین کے مزید علاقوں پر اپنا قبضہ بڑھایا اور فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔

قدس ڈےکی بنیاد پڑنے سے قبل ، فلسطین ایک اسلامی عرب مسئلہ تھا لیکن جب دنیا نے اسرائیل کے جنگی جرائم اور فلسطنیی بچوں اور نوجوانوں کی منظم طریقے سے نسل کشی  پر توجہ مرکوز کی تو یہ مسئلہ دنیا کی نظروں میں کھل کر سامنے آیا۔ اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خمینی نے ایک مرتبہ کہا کہ بعض یورپی افراد اور کچھ لاطنی امریکی کے ممالک کے لیے یہ بڑے حوصلے کی بعد ہے کہ وہ صیہونی ریاست کے خلاف احتجاج کریں کیونکہ ان کے احتجاج سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ابھی تک تمام غیر مسلم دنیا شیطانی قوتوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنی۔ فلسطینی انتفادہ 1987 میں اسرائیلی قابض افواج کو پتھرمارنے سے شروع ہوئی جس سے فلسطینیوں کی عرب ریاستوں  اور ان ممالک کی جانب مایوسی کا اظہار ظاہر ہوتاہے اجو اسرائیل کے ساتھ سمجھوتے کی بات کرتے ہین۔ اسلامیک جہاد تحریک نے 1980 میں اپنی جدودجہد کا آغاز کیا جو کہ بنیادی طور پر ایرانی انقلاب کا عکس تھی ۔ اس انقلاب میں امریکہ کے کٹھ پتلی شاہ ایران کو طاقت سے بے دخل کر کرے ایرانیوں نے ثابت کیا کہ امریکہ کی طاقت ان کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتی۔

فلسطینی انتفادہ نے اسرائیلی جماعتوں اور واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین تنازعات پیدا کر دیے ۔ اسرائیل کو انتفادہ کو دبانے کی بھاری قیمت چکانا پڑی ۔ بعد میں حماس نے بھی اسرائیل کے خلاف جدودجہد شروع کر دی۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی طرح فلسطین کی اسلامک جہاد تحریک کا آغاز بھی مسجد سے ہوا۔ ان تحریکوں کی بدولت آج فلسطین کا مسئلہ دنیا کے اہم مسئلوں میں شامل ہوا ہے اور آج مسلمانوں نے عوامی تحریکوں کی طاقت کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی جان لی ہے کہ مغرب کے فراست دان کشمیر کو بچانے میں چنداں سنجیدہ نہیں ہیں۔ امام حمینی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ صیہونی ریاست ایک کینسر کی مانند ہے جس کاخاتمہ مسلمان اپنی بغاوت سے کر سکتے ہیں ۔

پیر، 3 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں