اسرائیلامریکہانصافبھارتبین الاقوامیپاکستانتارکین وطنسعودی عربفلسطینکشمیر

مسئلہ فلسطین پوری انسانیت کا مسئلہ ہے

مسئلہ فلسطین پوری انسانیت کا مسئلہ ہے ۔ ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار کے مطابق فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔

رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس منائیں گے: حکومت یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے۔ ان خیالات کا اظہار فلسطین فائونڈیشن پاکستان اسلام آباد چیپٹر کے سرپرست اراکین بشمول پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما صدیق الفاروق، جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار نعیمی، سنی اتحاد کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل جواد الحسن کاظمی، مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ناصر عباس شیرازی، ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر، تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبد اللہ گل اور فلسطین فائونڈیشن اسلام آباد کے ترجمان علی چوہدری نے پیر کے روز پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

رہنماؤں کاکہنا تھا کہ عالم انسانیت کے سب سے بڑے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے غفلت برتی جا رہی ہے، مسئلہ فلسطین تاریخ کے سنگین دور سے گذر رہا ہے، دنیا میں پھیلی کورونا وبا کے باعث جہاں کئی ایک اور مسائل نے جنم لیا ہے وہاں مسئلہ فلسطین کو بھی پس پشٹ ڈال دینے کی ہر ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے۔

آج پہلے کی نسبت آج فلسطین کازکے خلاف اندرونی بیرونی دشمن سرگرم ہو چکے ہیں، امریکہ اسرائیل، ہندوستان اور ان کے دوست پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں جبکہ کشمیر میں مظلوم عوام انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بانیان پاکستان کے نظریہ اور اصولوں پر کاربند ہیں اور اسرائیل جیسی جعلی ریاست کو تسلیم تو دور، دوستانہ تعلقات کو بھی مسترد کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کا اس عنوان سے موقف یقینا لائق تحسین ہے لیکن اس معاملہ پر مزید استقامت اور استحکام کی ضرورت ابھی بھی باقی ہےاور اس حوالے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عرب یا دیگر حکمرانوں کی اسرائیل دوستانہ پالیسی کا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہئیے، پاکستان ایک خودمختار اور ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے، لہذا پاکستان کی پالیسی وہی ہو گی جو قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والوں کو مسلم امہ کا خائن سمجھتے ہیں، اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا در حقیقت مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی امریکی وصہیونی سازش ہےاس کے ساتھ ہی مسئلہ فلسطین کا حل مسلم امہ کے اتحاد ہی سے ممکن ہے لیکن جو ممالک اور حکمران اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر چکے ہیں ہم ان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل سے فی الفور تعلقات منقطع کریں اور مسلم امہ کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچالیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں فلسطین کاز اور کشمیر کاز کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے عناصر کی بیخ کنی کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں۔

مقررین نے عوا م سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منائیں اور پاکستان بھر میں یوم القدس کے اجتماعات میں شریک ہو کر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کریں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان کو بھی چاہئیے کہ یوم القدس کے موقع پر سرکاری سطح پر تقریبات منعقد کی جائیں اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے تحت فلسطین و کشمیر کے عوام کی حمایت جاری رکھی جائے۔

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں