آرٹبھارتپاکستانحقوقدینیات

میری ذہنی تربیت کی کہانی(1)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

– آواز ڈیسک –


کراس کراس

Ben بینیڈٹو کروس (اطالوی: [bene’detto ‘kro?t?e]؛ (25-2-1866 – 20-11-1952)

ٹریپوکو ٹورز پاکستان

صرف ایک سو صفحات پر مشتمل رسالہ بعنوان ’’لا پوزیا‘‘٭ میں کروچےؔ نے علم و عمل کی ذو جہتی یونانی تھیوری کے مطابق یہ درس دیا کہ علم و عمل دونوں جہاں ایک طرف نفس ِ امارہ، نفس ِ مطمئنہ اور نفس لوامہ کے لیے وجدان کا سامان مہیّا کر سکتے ہیں وہاں منطق و ادراک، شعور و عقل کو بھی نشو و نما دیتے ہیں۔ موخر الذکر کے   تعقل یہ کام کرتا ہے اور اوّل الذکر کے لیے تخیل اپنا سب سر و سامان بروئے کار لاتا ہے۔ وجدان اپنے آپ میں صرف ایک حسی اور حسیاتی جذبہ ہے اور اس کی تکمیل تبھی ہوتی ہے، جب یہ اظہار کا راستہ تلاش کر لے ۔ اظہار کی تجسیم ہی اس کا فرض ہے اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو یہ کسی جانور کا خوشی میں چھلانگیں لگانے کا عمل تو ہو سکتا ہے، انسان کا وجدان نہیں۔ٌ دیکھیں، فُٹ نوٹ۔

جس بات نے مجھے ہمیشہ کے لیے کروچےؔ کا مرہون ِ منت کر لیا وہ اس کا یہ فرمان ہے کہ جمالی فعل صرف اس وقت منصہ شہود پر آتا ہے جب انسانی ذہن میں کوئی واضح یا نیم واضح خیالی خاکہ ایک شکل میں ڈھل جائے۔ گویا ایک بصری منظر نامہ معرض ِ وجود میں آ جائے۔

مثال کے طور پر ـ   حب  الوطنی یعنی وطن کی محبت ـ ایک ’کانسیپٹ‘ ہے ، جس کی کوئی واضح شکل انسانی ذہن میں موجود نہیں ہے۔ اس کانسیپٹ  کو تخلیقی عمل میں سے گذرنے کی غٖرض سے اپنے لیے ایک سہارا ڈھونڈنا پڑتا ہے اور وہ ایک ایسا منظر نامہ ہے، جس سے اس کی غرض و غایت اگر ثابت نہ بھی ہو تو اس کا عمل ثابت ہو۔ اس دورانیے میں تخلیقی ذہن اپنے لیے وہ جیومیٹری کی اشکال تراشتا ہے، جو زبان میں ڈھلنے کے بعد ا س کا نقشہ قاری کو یا سامع کو سمجھا سکیں۔

حب الوطنی کے کانسیپٹ کے لیے ذہن خود بخود ہی تاریخ سے مثالیں ڈھونڈھ کر انہیں تصویروں میں ڈھالتا ہے۔ ہندوستان کی جنگ آزادی کے سلسلے میں بھگت سنگھ کا پھانسی پر جھولنا، ایک تصویر ہے ۔ جلیانوالا باغ میں گورے حاکموں کی بربریت ، ہزاروں نہتے لوگوں پر گولیوں کی برسات، ایک اور تصویر ہے۔ ذہن انہیں تراش کر، نک سک سے  آراستہ کر کے، الفاظ کا جامہ پہناتا ہے اور اس طرح ایک نظم وجود میں  آجاتی ہے۔

یہاں یہ بات ضروری ہے، کہ اظہار کا یہ خارجی طریقہ شاعر کے لیے زباندانی، مصور کے لیے برش اور رنگوں کے استعمال کا ہنر، یامورتی کلا کے لیے ، خام سامان یعنی پتھراور اوزار یعنی ہتھوڑا ، چھینی وغیرہ کا ماہرانہ عمل، یہ سب خارجی اوزار اس کے اصلی اور اندرونی لائحہ عمل سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، اس کے لیے تو اسے فنکارانہ ہنر کی ضرورت ہے۔ فن اور ہنر کا یہی امتزاج کسی کو اچھا یا برا فنکار بنا سکتا ہے۔

جس بات کی تربیت مجھے کروچے سے ملی وہ یہ تھی کہ جو کچھ ’باہر‘ معرض ِ وجود میں آیا ہے، وہ ’اندر’ کی کاربن کاپی تو نہیں ہو سکتا۔ ’اندر‘ کے تصویری مونتاژ کی لا تعداد جہتیں، بے شمار رنگ، بے حد و نہایت زمان و مکان کے استمراری اور غیر استمراری آبان ۔ اور ان سب کی دم بدم بدلتی ہوئی کیفیات کی کوئی ’’نقل برابر اصل‘‘ تصویر الفاظ میں یا رنگوں میں یا ایک مورتی کی شکل میں ڈھالی نہیں جا سکتی، تو پھر آرٹ کیسے اصل یعنی اندرونی ’سچ‘ کو دکھا سکتا ہے؟ اس کا کوئی جواب دینا کسی کے بس کی بات نہیں تھی، لیکن چنڈی گڑھ میں قیام کے دوران جب میں نے اورو بندو گھوشؔ کی انگریزی تصنیفا ت کو پڑھا تو مجھے یہ مسئلہ کچھ کچھ حل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔۔

اشتہارات

merkit.pk

et شاعری (1936)
تنقید۔ جرنل آف لٹریچر ، ہسٹری اینڈ فلاسفہ ڈائریکٹر بی کروس ، 1 ، 1903 پی.372
——
(کتھا چار جنموں کی‘‘ سے ایک اقتباس’’)

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں