انسانی حقوقبین الاقوامیتارکین وطنحقوقیورپ

فرانسیسی صدر کی ہرزہ سرائی کی سیاسی وجوہات

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

فرانس کے صدر امانئول میکرون نے ایک بار پھر اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ نسبت دے کر عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ مکیرون نے جمعہ کے دن اپنے ٹوئیٹر پیغام میں ایک خاتون پولیس افسر پر چاقو سے کیے گئے حملے کو بہانہ بنا کر اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور کہا ہے کہ وہ اسلامی دہشت گردی کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گا۔ جمعہ کی سہ پہر ایک شخص نے پیرس سے ساٹھ کلومیٹر دور ایک علاقے رامیولیٹ میں ایک پولیس اسٹیشن میں ایک خاتون پولیس افسر پر حملہ کرکے اسے زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آور کا تعلق تیونس سے ہے اور اسے جائے واردات پر فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ فرانسیسی میڈیا نے اس بہانے کو سامنے رکھ کر کہ کیونکہ حملہ آور نے حملہ کرتے وقت "اللہ اکبر” کا نعرہ لگایا تھا، لہذا اس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے ہے، فرانس میں اسلامو فوبیا کو ہوا دے رہا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ فرانس کے صدر نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز رویہ اختیار کیا ہے، وہ پہلے بھی اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ بیان کرتے رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر سیاسی مقاصد کے لیے اسلام کے خلاف جارحانہ سیکولرازم کو سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اسلامو فوبیا اور اسلام مخالف بیانات دے کر مسلمانوں کو دبائو میں لانا چاہتے ہیں، اس کی ماضی میں کئیں مثالیں موجود ہیں۔ میکروں نے آزادی اظہار و بیان کے بہانے "چارلی ایبڈو” کی توہین کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کو نہ صرف مسترد کیا تھا بلکہ اسلام کو ایک بحران زدہ دین سے تعبیر کیا تھا۔ فرانسیسی صدر نے دو اکتوبر 2020ء کو ایک بیان میں اسلامی آئیڈیالوجی کو ایک تباہ کن اور قتل و غارت کا باعث قرار دیتے ہوئے انتہائی ڈھٹائی سے یہاں تک کہا تھا کہ اسلام ایسا دین ہے، جو پوری دنیا میں بحران سے دوچار ہے اور یہ صرف فرانس میں ایسی کیفیت سے دوچار نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ فرانس کے صدر میکرون کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں، تاکہ اسلام کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرسکیں اور وہ کسی بھی معمولی سے معمولی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اسی نفرت اور متعصبانہ رویئے کی وجہ سے فرانس میں مساجد اور دینی مراکز پر پابندیاں عائد کرتے رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے رہنماء مسعود شجرہ کے بقول فرانسیسی صدر کھلم کھلا اسلام پر حملے کر رہے ہیں اور اسلام کو ایک بحران زدہ آئیڈیالوجی سے تعبیر کر رہے ہیں، حالانکہ فرانس اور پورے یورپ کی پالیسیاں بحران زدہ ہیں۔ میکرون کی اسلام دشمنی کی ایک اور وجہ فرانس کے اپریل 2022ء کے انتخابات بھی ہیں۔ میکرون کو اقتدار میں رہنے کے لیے فرانس کے دائیں بازو کے انتہاء پسندوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ ابھی تک ہونے والی مختلف سروے رپوٹوں کے مطابق میکرون اور دائیں بازوں کی مقبول لیڈر میری لوپین کی مقبولیت کی شرح قریب قریب ہے۔

میکرون کو دائیں بازوں کے انتہاء پسندوں کے ووٹ لینے کے لیے تارکین وطن بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سخت موقف اپنانا ضروری ہے۔ فرانس کے انتخابی معرکے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فرانس میں انتخابات دوسرے مرحلے میں داخل ہونے یقینی ہیں اور میکروں اور میری لوپین کے درمیان دوسرے مرحلے کا کانٹے دار مقابلہ یقینی ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون اپنا ووٹ بنک بڑھانے اور دائیں بازو کے انتہاء پسندوں کے ووٹ لینے کے لیے اسلام اور مسلمانوں کو آئے روز تنقید کو نشانہ بناتے ہیں اور اس حوالے سے اسلام کی توہین سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فرانس کے موجودہ صدر اسلامو فوبیا اور اسلام مخالف بیانات دے کر اقتدار میں باقی رہتے ہیں یا نہیں، لیکن یہ بات سب پر واضح ہوگئی ہے کہ یورپی رہنماء بھی اقتدار میں رہنے کے لیے اپنی تمام اقدار کو دائو پر لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

یورپ کے کئی ممالک مین سیاسی رہنماء پاپولسٹ ہیں۔ فرانس کے صدر میکرون بھی پاپولزم کی سیاست اور روش پر گامزن ہیں۔ فرانس کے صدر نے اس سے پہلے اسلام کی اہانت کرنے والوں کی اس لیے حمایت کی کہ فرانس کا قانون آزادی اظہار کا حق دیتا ہے، لیکن فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک "ہولو کاسٹ” کو بھول جاتے ہیں، اگر ہولو کاسٹ کی مذمت یا اس پر اعتراض کرنے کے خلاف قانون سازی کی جاتی ہے تو سوا ارب مسلمانوں کا دل زخمی کرنے والے ایسے اقدامات کے خلاف قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی۔ یورپ اور مغرب کے انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی اظہار و بیان کے نعرے اور بلند بانگ دعوے جھوٹے اور دہرے معیارات پر مشتمل ہیں، جب مغرب کے اپنے مفادات کو ٹھیس پہنچنے کا امکان ہو تو وہ سب اقدار کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور ان کا اصل اور حقیقی مقصد اپنے مفادات کا حصول یا اس کا تحفظ ہوتا ہے۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button