پاکستانجرمنییورپ

اسلاموفوبیا اور ہولوکاسٹ کے انکار پر مغرب کا دوغلا رویہ: شفقنا خصوصی

وزیراعظم عمران خان نے مغربی ممالک سے نبیﷺ کی شان میں گستاخی پرسزا کا مطالبہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جس مغرب میں ہولو کاسٹ پر تبصرے پرپابندی ہے اسی طرح نبیﷺ کی شان میں گستاخی پرسزا مقرر کی جائے۔ یہ ایک دلیرانہ بیان ہے کیونکہ مغربی معاشروں میں ہولوکاسٹ ایک انتہائی حساس معاملہ ہےجس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اسے ماضی میں ہونے والے ایسے کئی المیات سے الگ تھلگ سمبھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بدقسمتی سے یہود نفرت ہمارے ہاں موجود ہے اور یہ تعصب کی وہ شکل ہے جو لوگوں میں مذہب یا نسل کی بنیاد پر تمیز کرتی ہے۔ وہ لوگ جوہولوکاسٹ کی تفصیل سے متعلق سوال کرتے ہیں بشمول ان لوگوں کے جو یہودیوں کی نسل کشی کے المیے کو ایک یہودی ریاست کے قیام کی سازش کہتے ہیں ان کو یہود نفرت کر نے والے کہا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایڈولف ہٹلر اپنے منشور (می کییمف میں) جو کہ دوسری جنگ عظیم سے دس سال قبل شائع ہوئی ، میں کھلم کھلا ایسے منصوبوں پر بات کرتے دکھائی دیتے تھے۔ اس کے علاوہ تاریخی دستاویزات، شہادتیں اور دیگر ایسے ثبوت ہولو کاسٹ کے واقعے کو ثابت کرتے ہیں۔ تاہم نازیوں نے یہودیوں کے علاوہ دیگر مذہاب اور اقوام کے لوگوں کی بھی نسل کشی کی خاص طور پر غلام جیسا کہ پولز، روسی اور سرب وغیرہ تاہم ہولوکاسٹ کے تذکرے اور ہٹلر کے نسل کشی کے جرائم کے تذکرے میں ان کو کہیں شامل نہیں کیا جاتا۔

ہٹلر کے جرائم کا نشانہ بننے والی ان اقوام کے ایسے افراد جو اپنے قوم پر ڈھائے جانے والے ان مظالم سے اچھی طرح واقف ہیں وہ اس بات کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کی نسل کشی کو تو پوری دنیا افسوس کی نظروں سے دیکھتی ہے مگر ان بارے میں کسی تاسف یا افسوس کا اظہار نہیں کرتی۔پس ہولوکاسٹ کے معاملے میں ان ممالک کی جانب سے جو ہولوکاسٹ کے انکار کو جرم سمجھتے ہیں  یہ خاص سلوک جبکہ نازی جرمنیوں کی جانب سے دیگر اقوام کی نسل کشی سے انکار بذات خود یورپ میں ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ اس دوہرے معیار کے حامی اپنی بات کے حق میں یوں دلائل دیتے ہیں کہ نازیوں نے دیگر اقوام کی نسبت یہودیوں کی ایک بہت بڑی آبادی کا قتل عام کیا۔ دوسری جانب اس نظریے کے مخالفین یہ کہتے ہیں ظلم کے شکار لوگوں کی درجہ بندی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ظلم تو ان سب پہ ایک جیسا ہوا ہے اور نسل کشی تو ایک سی ہوئی ہے اس لیے دیگر اقوام کی نسل کشی کے انکار پر بھی قانون موجود ہونا چاہیے۔

پس مغربی جمہوری اصولوں پر عمل پیرا تمام ممالک کو نسل کشی میں امتیاز کیے بغیر اس بات کا ادراک کرناچاہیے کہ نسل کشی جس کی بھی ہو وہ اتنی ہہ قابل مذمت ہے۔  بہت حال یہ ہر معاشرے کی اپنی سوچ ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات سے وہ کس طرح نمٹتی ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی معاشرے یا ریاست کو دوہرا معیار ہرگز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔  اس بات کو ذہن میں رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے وہ ممالک جو ہولوکاسٹ کے انکار کو جرم گردانتے ہیں وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی گستاخی کو بھی جرم سمجھیں اور کو قابل سزا قرار دیں۔ اگر آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات کے بارے میں کوئی توہین آمیز بات کرتے ہیں اور پھر اسے آزادی اظہار رائے قرار دیتے ہیں تو  بالکل ایسے ہی کوئی بھی شخص یہ دلیل دے سکتا ہے کہ ہولو کاسٹ کو رد کرنا اس کا جمہوری حق ہے اور اظہار آزادئ رائے بھی اس کا حق ہے مگر اس معاملے میں آپ کا دوہرا معیار یہ ہے کہ آپ کسی کو یہ حق دینے پہ تیار ہی نہیں ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب نفرت انگیز تقریروں کے حوالے سے آپ دوہرا معیار اختیار کریں گے تو یہ آپ  بیک وقت ہولوکاسٹ کے انکار کو نفرت انگیز اظہار اور نازی جرمنیوں کی جانب سے یہودیوں کے قتل عام سے انکار اور دیگر غلاموں کے بارے میں اس طرح کے افعال  کو اظہارآزادئ رائے قرار دے سکیں گے؟ اسی طرح آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ سلم کی توہین ، قرآن پاک کو نظر آتش کرنے اور اس طرح کے دیگر کاموں کو کس زمرے میں رکھیں گے؟ آزادی اظہار رائے یا نفرت انگیز اظہار؟ یہ تو کھلم کھلا دوہرا معیار ہے کہ آپ ایک چیز کو تو آزادی اظہار رائے قرار دیں اور دوسری کو نفرت انگیز اظہار۔ عمران خان نے ان مغربی حکومت کو چیلنج کیا ہے جو ہولوکاسٹ اور اسلاموفوبیا پر دوہرا معیار رکھتی ہیں اوریہ دلیرانہ مؤقف دنیا کے بہت کم اسلامی سربراہان نے اپنایا ہے۔  مزید برآں عمران خان نے مغربی جمہوریت کے دوہرے معیار کو بھی نشانہ بنایا ہے ۔ عمران خان نے مغربی جمہوریت کے حامل ان ممالک سے کوئی سخت مطالبہ نہیں کیا بلکہ محض انہیں دوہرا معیار ترک کرنے کا کہا تاکہ مسلمانوں کے جذبات کا تحفظ کیا جاسکتے کیونکہ مغربی جمہوریت کے مطابق برابری کا سلوک ہر شخص اور ہر قوم کا حق ہے۔

اگر کوئی ملک  یہودیوں کے جذبات کے تحفظ کے لیے  ہولوکاسٹ سے انکارکرتا ہے تو انہیں نازی جرمنوں کے ہاتھوں دیگر اقوام کی نسل کشی اور اسلاموفوبیا پر بھی یہی کچھ کرنا چاہیے تاکہ ان کے شکار افراد کے احساسات کو بھی یکساں طورپر تحفظ کیا جاسکے۔ تاہم مغربی جمہوریت کے دوہرے معیارسے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ظلم کا شکار بعض افراد تو اہم ہیں مگر دوسرے نہیں اور تمام لوگ برابر نہیں ہیں۔ یہ بات برابری کے اصول کے یقینی طور پر خلاف ہے جو کہ مغربی جمہوریت کی بنیاد ہے۔  یہ بات مغرب کے سماجی و سیاسی نظام کو ننگا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دوغلے پن کو نمایاں کرتی ہے۔  اس لیے وہ لوگ جو مغربی جمہوری اصولوں  پر یقین رکھتے ہیں انہیں عمران خان کی تعریف کرنی چاہیے کہ انہوں نے مغربی حکومتوں سے مطالبہ کیاہے کہ وہ سب کے ساتھ یکساں طور پر پیش آئیں۔

منگل، 20 اپریل 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں