پاکستانکراچیلاہور

لاہورکے علاقوں میں ہونیوالے تشدد کی سخت مذمت،بلاول بھٹو

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاو ل بھٹو زرداری نے لاہور ا ملک کے دیگر علاقوں میں ہونے والے تشدد کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوںنے حالیہ تشدد کے واقعات میں جو کہ پی ٹی آئی حکومت کی صورتحال سے پرامن طور پر نمٹنے میں ناکامی کی وجہ سے پیدا ہوئی میں ضائع ہونے والی تمام جانوں بشمول پولیس اور سویلین کے زیاں پر سخت دکھ اور صدمے کا اظہار کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انسانی خون بہانا اور تشدد پر اکسانا کبھی بھی صورتحال کو بہتر نہیں کر سکتا کیونکہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تشدد مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔ اصل جنگ تو اس خراب ہوتی ہوئی صورتحال کی وجوہات کے خلاف جنگ ہے۔ اس سلیکٹڈ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا اور پیدا ہونے والے ان چیلنجوں کو پارلیمنٹ میں زیر بحث کیوں نہیں لائی؟ انہوں نے ضیاءدور میں ان گروپوں کی سرپرستی کی طرف اشارہ کیا جو نسلی، مذہبی اور فرقہ واریت کی نفرتیں پھیلا کر قومی دھارے کی سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنے کے مقصد کے لئے بنائی گئیں۔ وہ ڈیکٹیٹرانا ہتھیار ابھی تک سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنے کے لئے بنائے جا رہے ہیں اور نئے نئے عفریت جنم دئیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستان کے عوام کی جمہوری خواہشات کو دبایا جا سکے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ہم یہ سمجھنے میں ناکام ہوگئے کہ جو مستقل آگ سے کھیلتا ہے وہ خود بھی جل جاتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی پارٹی شروع ہی سے تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف رہی ہے اور اس انتہا پسندی کے خلاف لڑتے ہوئے ہماری قیادت بشمو ل شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے قیمت ادا کی ہے۔ اب اس بات کو دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے کہ “سلیکٹڈ” کو یہ اجاز دی گئی کہ وہ سرکاری املاک پر حملے کریں، اسلام آباد میں سرکاری دفاتر پر قبضہ کریں اور حکومت کو یرغمال بنا لیں۔ آج بھی اسی سلیکٹڈ کے طریقہ کار کو دہرایا جا رہا ہے تاکہ نظام کو تباہ کیا جا سکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وہ اس بات کے متعلق ان کا نقطہ نظربہت واضح ہے کہ عوام کی جانوں کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور موجودہ حکومت یہ ذمہ داری پوری کرنے میں بار بار ناکام ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملک انارکی کا شکار ہوگیا ہے اور عوام اور ریاست دونوں ناقابل تلافی نقصان کے خطرے کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورتحال میں قانون کی عملداری قائم رہنی چاہیے اور تمام معاملات آئینی طریقہ کار کے مطابق حل کئے جانے چاہئیں نہ کہ تشدد کا استعمال کرکے انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں