امریکہبرطانیہبھارتپاکستانروسصحتکورونا وائرسہالی ووڈیورپ

کرونا وبا نے کس طرح امریکی قیادت کو کمزور کیا ؟ شفقنا بین الاقوامی

ہالی ووڈ کی فلموں کے برعکس جن میں امریکہ دنیا کو بچانے کے لیے اول اول ہوتا ہے، کرونا وبا نے اس کے مکمل الٹ کر دیا ہے۔ پہلے ہی بڑے امتحان نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کا نظام صحت جو سرد جنگ کے دوران روس نے قائم کیا اس کی نسبت کم تر ہے۔ اور ایسے وقت میں جب کریملن نے یورپ کے کئی ممالک کو مدد فراہم کی جس کا مقصد یقینی طور پر پروپیگنڈا  تھا امریکہ اپنی کمزوری دکھا رہا تھا۔ ایک معیاری ویکسین کی تیاری کی دوڑ میں ماسکو نے ثابت کر دیا کہ وہ مقابلے میں اپنے مخالف ممالک سے بہت آگے ہے۔ اور سخت پابندی کے باوجود زیادہ سے زیادہ یورپی ممالک روسی ویکسین سپوتنک وی کے حصول کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ یہ ویکسین فائزر اور موڈرنا سے کہیں بہتر ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کو درحقیقت سائنس کے میدان میں سخت تھپڑ لگا ہے تاہم وہ اس کو محض پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ اس حقیقت کے برعکس کے دنیا میں لاکھوں افراد کرونا کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیںمغربی ممالک کی ویکسین کو یورپ میں محدود رکھ کر اجارہ داری کی کوشش ظاہر کرتی ہے کہ روس کے ساتھ تنازعات کی خاطر امریکہ مغربی نصف کرہ میں کس طرح لوگوں کو قربان کرنے پر تیار ہے۔

مغربی ویکسینز کے برعکس جو بہت ساری پیچیدگیوں کا سبب بن رہی ہیں ، سپوتنک ویکسین ان سے کہیں بہتر ہے۔ جس کے نتیجے میں روس اور دنیا کے ممالک کے مابین فروخت اور مشترکہ تیاری کے کئی معاہدے طے پائے۔ اسی طرح روسی ویکسین کےمتعلق اس طرح کی پیچیدگیوں کی کوئی رپورٹ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ یوروپین کمیشن اور برسلز یورپی ممالک ہنگری اور سربیا میں اس ویکسین کے استعمال اور اثرات پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ ممالک سپوتنک کی پہلی کھیپ وصول کر چکے ہیں۔

کیا وجوہات ہیں کہ امریکہ نے اس معاملے میں اپنی کمزوری ظاہر کی ہے۔ یہ سب کیسے ہوا کہ وبا کے عین وسط میں امریکہ کے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ قہ اپنے یوروپین حلیفوں کی مدد کر سکتا۔ بدقسمتی سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ امریکہ مکمل حواس باختہ ہو چکا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نظام صحت غیر مرکزی اور غیر منظم ہے۔ وبا کی صورت میں امریکہ کی طبی سہولیات کو منظم شکل دینا انتہائی مشکل ہے اس لیے اس کو دستی طور پر کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔پریشانی کے عمومی حالات کے ساتھ ساتھ معاشرے کےغریب ترین لوگ جن کی صحت انشورنس ہی نہیں تھی اور خوراک کی قلت کی وجہ سے کرونا کا سب آسان شکار تھے ۔ اس صورتحال میں امریکی نظام صحت مکمل طور پر بیٹھ گیا۔اس لیے یہ بات حیران کن ہے کہ ٹرمپ نے زیادہ تر ذرائع گھر پر ہی رکھے۔

مزید برآں ایک تاجر سے سیاست میں آ کر صدارت کی کرسی سنبھالنے والے ٹرمپ جو کہ معاوضے کے عوض سیکورٹی فراہم کرنے کی بات کرتے تھے وہ کبھی بھی اپنے حلیفوں کو باور کرانے کا یہ موقع کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے کہ امریکی امداد مفت نہیں ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کی جگہ امریکی صدر جو بائیڈن نئے صدر منتخب ہوئے جو کہ جمہوری قوتوں کو مکمل مدد فراہم کرنے کے حمایتی ہیں۔ تاہم امریکی جمہوریت پسند عمومی طور پر اخلاقی یا فوجی امداد فراہم کرتے ہیں وہ  بھی کرونا وبا کے معاملے میں مکمل طور پر غیر تیار تھے کہ کرونا وبا کے شکار ممالک کو کچھ مدد فراہم کر سکتے۔ مزید برآں درحقیقت یہ امریکہ اور برطانیہ ہی تھے جنہوں نے کوویکس نظام متعارف کرایا جس کا مقصد برابری کی سطح پر ( مفت ہرگز نہیں) ویکسین فراہم کرنا تھا۔ تاہم بعد میں امریکہ اور برطانیہ کی دونوں ویکسینز موڈرنا بھی اور آسٹرازنیکا بھی بنیادی طور پر ان دونوں ممالک کی ضروریات کے لیے ہی کافی ہوئی اور پھر اس کا کچھ حصہ ہی ان ممالک کو فراہم کیا جاسکتا جو خود ویکسین تیار نہ کر سکیں۔

اسی طرح بھارت جو کہ ایک ارب آبادی کا ملک ہے وہ صرف اپنی ضروریات ہی پوری کر رہا ہے اور روس یورپ میں بھی ویکسین لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم امریکی دباؤ پر یوروپین یونین نے روسی  چینی اور بھارتی ویکسین کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس پابندی کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی۔ اس لیے یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ بہت سارے یورپی ممالک جیسا کہ سویڈن اور سویٹزرلینڈ کا نظام صحت امریکہ کی نسبت کہیں بہتر ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے رہنما ممالک کسی بھی مشکل وقت میں اپنے حلیفوں کو اکیلا نہیں چھوڑتے چاہے یہ فوجی تنازعہ ہویا وبا کا معاملہ مگر امریکہ نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے۔

پیر، 19 اپریل 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button