افغانستانپاکستانپشاورتجارت

سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے پر پاکستانی پارلیمانی وفد کا دورہ افغانستان ملتوی

اسلام آباد: سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستانی پارلیمانی وفد کا دورہ افغانستان میں ملتوی ہوگیا، پاکستانی وفد کا طیارہ کابل ایئر پورٹ پر سیکیورٹی خدشات کی بنا پر لینڈ نہ کر سکا جسکی وجہ سے وفد اسلام آباد واپس آگیا۔

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پاکستانی پارلیمانی وفد نے افغانستان کا تین روزہ دورہ کرنا تھا، تاہم اب وفد کا دورہ افغانستان ملتوی ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کابل انٹرنیشنل ائیرپورٹ بند ہے، جس کے باعث پاکستانی وفد کو بھی دورہ ملتوی کرنا پڑا۔

بعد ازاں اسپیکر اسد قیصر کا دورہ کابل ملتوی ہونے پر افغان پارلیمان کے سربراہان نے اسپیکر اسد قیصر کو ٹیلیفون کیا، افغان چیئرمین سینیٹ فضل ہادی مسلم یار اور اسپیکر ولوسی جرگہ میر رحمان رحمانی  نے  اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو الگ الگ فون کیا۔گفتگو میں سپیکر اسد قیصر کا دورہ ملتوی ہونے کے معاملہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سربراہان افغان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد کا جہاز سیکورٹی خدشات کے باعث نہیں اتر سکا۔ اسپیکر ولوسی جرگہ میر رحمان رحمانی  نے کہا کہ پاکستانی وفد کی سیکیورٹی ہرچیز پر مقدم ہے، امید ہے بہت جلد پاکستان کا پارلیمانی وفد کابل کے دورے پر آئے گا۔

اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال بہترہونے پر جلد افغانستان آؤں گا،افغانستان میں امن و استحکام کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا،افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارلیمانی وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے  افغانستان روانہ ہوئے وفد میں نمایندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان اور رکن پارلیمان غلام مصطفے شاہ، ساجد خان، رانا تنویر, گل داد خان، شیخ یعقوب اور شاندانہ گلزار بھی شامل  تھے۔

پاکستانی پارلیمانی وفد  نے 8 اپریل سے 11 اپریل تک افغانستان کا دورہ کرنا تھا، وفد نے وفد افغان صدر اشرف غنی، وزیر خارجہ حنیف اتمر کے علاوہ افغان پارلیمنٹ کے سپیکر سے ملاقاتیں  شیڈول تھیں۔ پارلیمانی وفد کے دورہ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو ختم کرنا تھا۔

اس سے قبل میڈیا سے غیررسمی بات کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے عوام کی سطح پر روابط بڑھانے کا خواہا ں ہے، افغان قیادت کے ساتھ بات چیت کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کے امور زیر بحث آئیں گے۔ جب کہ پاکستان کا پارلیمانی وفد افغان صدر اشرف غنی اور وزیر خارجہ محمد حنیف  سے ملاقاتیں کرے گا۔

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں