امریکہانسانی حقوقبین الاقوامیپاکستانتارکین وطنحقوقکراچیکرکٹ

دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا امر جلیل کو تحفظ دینے کا مطالبہ

پاکستان کے 100 سے زائد دانشوروں، مصنفین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مشترکہ بیان میں ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مشترکہ بیان میں سندھی زبان کے مشہور مصنف امر جلیل کے خلاف سوشل میڈیا، اخبارات اور بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے نفرت آمیز تقاریر اور قتل کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں توہین مذہب کے نام پر آزادئ اظہار پر قدغن لگانے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق امر جلیل ہمیشہ سے اپنی تحریروں کے ذریعے طاقتور طبقات کے خلاف آواز اٹھانے سے کبھی نہیں کترائے اور انہوں نے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی تعصب اور جبر کے خلاف کھل کر بولا ہے۔

بیان میں ایسے افراد کے خلاف حکومت سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جنہوں نے ان کے بقول جان بوجھ کر 2017 کی ویڈیو سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

امر جلیل کون ہیں؟

سندھی، اردو اور انگریزی زبان کے معروف کالم نویس، مصنف اور ڈرامہ نگار امر جلیل معاشیات اور تاریخ کے طالب علم رہے ہیں۔

امر جلیل کرکٹ کے اچھے کھلاڑی ہونے کے ساتھ ادبی ایوارڈ یافتہ مصنف ہیں جن کے کئی کتب شائع اور ترجمے ہو چکی ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے انگریزی اخبار میں کالم بھی تحریر کرتے رہے ہیں۔

امر جلیل الیکٹرانک میڈیا میں بطور مبصر بھی کئی پروگرامات میں شرکت اور میزبانی کر چکے ہیں۔

امر جلیل آج کل کیوں خبروں میں ہیں؟

حال ہی میں امر جلیل کو ان کی چار برس پرانی ایک ویڈیو پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس ویڈیوں میں وہ اپنی ایک تحریر پڑھ کر سنا رہے ہیں۔

تنقید کرنے والے افراد ان کی اس تحریر کو توہینِ مذہب قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اب تک کسی عدالت میں ان کے خلاف کوئی کیس دائر نہیں کیا گیا۔

’ادبی تحریر کو ادبی تحریر ہی سمجھنا چاہیے‘

سندھی، اردو اور انگریزی کے ممتاز مصنف اور صحافی جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ امر جلیل ملک کے معتبر ادیب ہیں۔ چار سال کے بعد ان کی کہی ہوئی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کے خیال میں ادبی تحریر کو ادبی تحریر ہی سمجھنا چاہیے۔ وہ محض علامتی ہوتی ہیں۔ ان کا مرکزی خیال در حقیقت بنیادی اہمیت کے حامل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امر جلیل کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ کسی مذہبی معاملے کو چھیڑیں۔ وہ محض ایک افسانہ یا خیالی کہانی بیان کر رہے تھے۔ اس پر جو فتوے دیے جا رہے ہیں یہ تشویش ناک بات ہے۔ کسی بھی شخص اور شہری کو قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ لوگوں کو اس قسم کی ترغیب دینا غیر اخلاقی، غیر اسلامی، غیر قانونی اور انسانیت کے بھی بر خلاف ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ امر جلیل کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور اس کی ذمہ داری صوبائی اور وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

جامی چانڈیو نے کہا کہ کسی کو ان کی کسی بات سے اختلاف ہے تو عدالتیں اور قانون کا استعمال کرے۔ بجائے اس کے کہ قانون کو ہاتھ میں لیا جائے۔

’کفر کے فتوے جاری کرنا ہمارا کلچر نہیں‘

ایک اور مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ ملاح کے خیال میں بدقسمتی سے معاشرے میں ایک سازش کے تحت نفرت کے بیج بوئے گئے ہیں جس کا خمیازہ اب عدم برداشت، انتہا پسندی اور نفرت آمیز تقاریر کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ ملاح کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کو کھلی آزادی ہے کہ وہ لوگوں کو ہراساں کریں، دھمکیاں دیں اور گھروں پر حملے اور مارنے کی دھمکیاں دیں۔ نہ ریاست اور نہ ہی حکومت متحرک ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مسلمان اور کافر قرار دینے کا معاملہ خدا اور بندے کے درمیان نہیں بلکہ ملک کی رجعت پسند قوتوں کے ہاتھوں میں آ گیا ہے۔ان کے بقول ایسی سوچ رکھنا ہماری ثقافت نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دھرتی صوفی ازم کے بیج اور مزاج والی ہے جس سے اسے زیادہ دیر دور نہیں رکھا جا سکتا۔

انسانی حقوق کمیشن کی مذمت

ادھر انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی امر جلیل کی خلاف نفرت آمیز مہم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

کراچی سمیت چار شہروں سے شائع ہونے والے ایک اخبار کا ذکر کرتے ہوئے کمیشن نے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ روزانہ ’امت‘ بزرگ مصنف امر جلیل کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ اس طرح کی حرکتیں صحافت کے نام کو بدنما کرتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) اور کونسل آف پاکستان نیوز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کو نوٹس لینا چاہیے۔

’حکومت کسی کو توہینِ مذہب کی اجازت دے گی اور نہ بلیک میلنگ کی‘

اگرچہ مصنف اور ادیب امر جلیل کے خلاف اس مہم پر صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ جب کہ وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر ترجمان سندھ حکومت نے بات کرنے سے معذرت کی۔

تاہم وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی کو توہینِ مذہب کی اجازت دے گی اور نہ ہی اس کی بنیاد پر کسی کو بلیک میلنگ کرنے دے گی۔ ان کے بقول اگر کسی نے توہینِ مذہب نہیں کی۔ تو اسے فکر مند نہیں ہونا چاہیے اور اگر کسی نے ایسی حرکت کی ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ امن و امان اور قانون کی عمل داری ممکن بنانا صوبائی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ البتہ اب تک اس بارے میں ان کے دفتر کو کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے اور اگر وفاقی حکومت کے بھی کسی ادارے کو ایسی کوئی شکایت موصول ہوئی تو قانون کے تحت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں