انصافحقوقدینیاتکراچیکشمیرلاہور

ریاست کے اندر ریاست کا تصور ملکی سالمیت کیلئے خطرہ ہے، علامہ عبدالخالق اسدی

– آواز ڈیسک –

شیعہ نیوز:مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے ملک بھر سے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کیلئے کراچی میں دیئے گئے دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا کھلے آسمان تلے پانچواں روز بھی گزر چکا ہے، ابھی تک کسی حکومتی ذمہ دار شخصیت نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حمایت ریاستی بے حسی کے جمود کو توڑنے کیلئے کی گئی تھی۔ ماضی کی حکومتوں میں ملت تشیع کیساتھ جس طرح کا امتیازی اور متعصبانہ انداز اپنایا گیا، اس کے ردعمل میں ملت جعفریہ نے موجودہ حکومت کا ساتھ دیا، تاہم تبدیلی کے بلند و بانگ دعوے تو کئے جا رہے ہیں، لیکن تبدیلی کہیں نظر نہیں آرہی۔ ماضی کی طرح آج بھی ہمارے نوجوانوں کو آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اغواء کر لیا جاتا ہے اور پھر کئی کئی سال ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں آتی۔ ہم پہلے بھی ایسے غیر جمہوری و غیر منصفانہ اقدامات پر آواز بلند کرتے آئے ہیں، آئندہ بھی اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کو چاہیئے کہ ہمارے نوجوانوں کے اغواء میں ملوث اداروں کو آئینی حدود و قیود کا پابند کریں، ایک طرف ہم مقبوضہ کشمیر میں عام شہریوں کیساتھ ریاستی جبر کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک آزاد ریاست میں اپنے ہی شہریوں کو ظلم و ستم کا شکار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جس ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا تھا، وہاں اس طرح کا ظلم تو مشرکین کیساتھ بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ موجودہ حکومت نے اگر اپنی خود مختاری کو ثابت کرنا ہے تو اسے اپنی رٹ منواتے ہوئے خود کو بالا ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست کا تصور ملک و قوم کی سالمیت و بقا کیلئے خطرات کھڑا کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا خلوص اور جدوجہد قابل رشک ہے، ملت جعفریہ کے ہر فرد کی یہ اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں