امریکہایرانبرطانیہبین الاقوامیتارکین وطنجرمنیچینروسکوریا

عالمی قوتوں کے ساتھ ابتدائی جوہری مذاکرات ‘تعمیری’ رہے، ایران

2015 کے ایران کے جوہری معاہدے میں شامل عالمی قوتیں اور ایران نے آسٹریا کے شہر ویانا میں بات چیت کا دوبارہ آغاز کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے نمائندوں کے درمیان ویانا شہر کے گرینڈ ہوٹلز میں بات چیت ہوئی۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اجلاس کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ یہ ممالک مشترکہ جامع منصوبے (جے سی پی او اے) کی بحالی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر مئی 2018 میں ترک کردیا تھا۔

ویانا میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے عباس آراغچی نے پریس ٹی وی کو بتایا کہ ‘ویانا میں مذاکرات تعمیری تھے، ہماری اگلی ملاقات جمعہ کو ہوگی’۔

انہوں نے ویانا مذاکرات کے آغاز سے کچھ ہی دیر قبل امریکا کی جانب سے ایران کو کی جانے والی پیش کش کے حوالے سے کہا کہ ‘ہم یورینیم کی 20 فیصد افزودگی روکنے کے بدلے میں ایران کا (جنوبی کوریا میں منجمد) ایک ارب ڈالر کو جاری کرنے سے متعلق کسی بھی معاہدے کو مسترد کرتے ہیں’۔

روس کے نمائندے میہکائیل الیانوف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ یہ ملاقات ‘کامیاب’ رہی۔

انہوں نے کہا کہ ‘جے سی پی او اے کی بحالی فوری طور پر نہیں ہوگی، اس میں کچھ وقت لگے گا لیکن کتنی دیر تک؟ کوئی نہیں جانتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مشترکہ کمیشن کے آج کے اجلاس کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عملی کام شروع ہوچکا ہے’۔

اسی معاہدے کو بچانے کے لیے ایک امریکی وفد بھی اسی شہر میں تھا تاہم ایران کے لیے خصوصی ایلچی رابرٹ میلے کی سربراہی میں ٹیم نے دوسری عالمی قوتوں کے ساتھ بات چیت میں حصہ نہیں لیا کیونکہ ایران نے کہا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیاں اور صدر جو بائیڈن کے ذریعے نافذ کردہ تمام سخت پابندیاں ختم نہیں ہوجاتی ہیں۔

امریکا نے بھی کہا کہ ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان ہونے والی مذاکرات ‘تعمیری’ رہی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ‘ہم اسے ایک تعمیری اور یقینی طور پر خوش آئند اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں’۔

ایرانی سپریم لیڈر علی حسینی خامنہ ای نے کہا کہ ایران، امریکی پابندیوں کے خاتمے کی تصدیق کے بعد یورینیم کی افزودگی اور جدید سینٹری فیوجز کی تعیناتی کو فوری طور پر واپس لے گا تاہم وہ ‘جلدی میں نہیں ہے’ کیونکہ وہ مقامی پیداوار کے ذریعے پابندیوں کا اثر ‘ختم’ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ویانا میں ایران کا وفد میں ملک کے مرکزی بینک، وزارت پیٹرولیم اور جوہری توانائی تنظیم کے نمائندوں پر مشتمل ہے کیونکہ پابندیاں بنیادی طور پر ایران کے مالیاتی شعبے اور تیل کی منتقلی کو نشانہ بناتی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ویانا مذاکرات میں ‘ماہرین کی ملاقات کی شکل میں تکنیکی مذاکرات’ بھی شامل ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ امریکی پابندیوں کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے اور ایران اس معاہدے کی مکمل تعمیل میں کیسے واپس آسکتا ہے۔

منبع: ڈان نیوز

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں