ایرانپاکستانحقوقدینیاتسعودی عربمصر

ولایت فقیہ سے متعلق میری رائے

– آواز ڈیسک –

تحریر: محمد سلمان مہدی

چند ہفتے قبل یکایک ولایت فقیہ کا موضوع خواص کے حلقوں میں زیر بحث رہا۔ ویسے بھی یہ موضوع انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد سے ایک سدا بہار زندہ موضوع کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس معاملے پر ولایت فقیہ کے مخالفین کی جہالت اپنی جگہ لیکن اس نظام ولایت کے دو حامیوں کی جانب سے جو موقف مقالوں یا انٹرویو کی صورت میں سامنے آیا، اس نے چکرا کر رکھ دیا۔ ایک محترم فرماتے ہیں کہ ولایت فقیہ اصولی مسئلہ نہیں تو دوسرے فرماتے ہیں کہ یہ حکومت سے متعلق معاملہ ہے، جبکہ میری نظر میں یہ مسئلہ اصولی ہے اورولایت فقیہ ہر دو صورتوں میں اپنا وجود رکھتی ہے، خواہ حکومت ہو یا نہ ہو۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ولایت فقیہ اصولی مسئلہ ہے تو اس سے مراد بنی نوع انسان کی رہنمائی، قیادت و رہبری کے لیے الہیٰ انتظام ہے۔ اسلام کا ورلڈ ویو (جہان بینی یا تصور کائنات) بہت واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے از حضرت آدم علیہ السلام تا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰﷺ (روحی و جسمی لہ الفداء) انسانوں کی رہنمائی، رہبری اور قیادت کے لیے نبوت کے عنوان کے تحت انتظام کیا۔ یہاں تک دنیا کے سارے مسلمان بلا امتیاز مسلک و فرقہ متفق ہیں۔

البتہ ختم نبوت کے بعد اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بعد کی قیادت و رہبری سے متعلق شیعہ اسلام نے قرآن و سنت کی روشنی میں امیر المومنین مولا علی ؑ کو بعنوان امام معصوم قبول اور تسلیم کیا۔ بعض سنی علماء بشمول ڈاکٹر طاہر القادری اور صوفیاء کے متعدد مسالک مولا امیر المومنین علی ابن ابی طالب کو باطنی ولایت میں خاتم الانبیاءﷺ کا جانشین مانتے ہیں، لیکن ظاہری حکومت پر حضرت ابوبکر کو خلیفہ کے عنوان سے بھی مانتے ہیں۔ شیعہ حضرت ابوبکر کو بحیثیت حکمران تو مانتے ہیں لیکن بحیثیت دینی پیشوا (امام) نہیں مانتے، کیونکہ خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ نے انہیں نامزد نہیں کیا تھا۔(نامزد نہ کرنے کا تاریخی حوالہ: سیرت ابن اسحاق و ابن ہشام)۔ شیعہ اسلام غدیری ولایت یعنی خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ نے جو اعلان ولایت غدیر خم میں کیا تھا، اس اعلان کی رو سے بھی سقیفہ کی کارروائی کو غدیری اعلان سے متصادم و برعکس سمجھ کر اسے غلط سمجھتے ہیں۔

البتہ یہ نکات محض اس موضوع کو سمجھنے کے لیے اختصار کے ساتھ پیش کرنے پر مجبور ہیں، مقصود مسلکی اختلافات پر بحث نہیں ہے۔ صرف ایک جملے میں سمجھنا چاہیں تو شیعہ اسلام کا موقف یہ ہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ نے اس امت کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا اور غدیری اعلان ولایت سمیت متعدد مقامات پر امیر المومنین مولاعلی ؑ کی ممتاز اور قائدانہ حیثیت کا تعارف کروا دیا تھا۔ شیعہ اسلام شروع دن سے اس نظریئے کا قائل ہے کہ زمین اللہ تعالیٰ کی حجت سے کبھی خالی نہیں رہتی اور انسانوں کی رہنمائی، رہبری اور قیادت کا الہیٰ انتظام ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کو (توحید و عدل) کے عنوان کے تحت اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کی رہبری و رہنمائی اور قیادت کے لیے مقرر کردہ ہستیوں کو نبوت کے عنوان کے تحت اور ختم نبوت کے بعد سے امامت کے عنوان سے اصول دین میں قیامت سے پہلے ترتیب کے ساتھ مان رکھا ہے، یعنی قیامت سے پہلے اور ختم نبوت کے بعد انسانوں کی اور خاص طور پر امت کی قیادت، رہنمائی و رہبری کے لیے امامت موجود ہے۔

اثناء عشری شیعہ اسلامی عقیدے میں امیر المومنین مولا علی ؑ پہلے امام معصوم ہیں، ان کے بعد امام حسن ؑ اور ان کے بعد امام حسین ؑ ۔  اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں ان کے بیٹے سے انہی کی نسل میں امام مہدی (عج) تک امام ہیںو یعنی بارہ امام۔ لیکن بارہویں امام، حجت واقعی کا وجود پرنور و خیر و برکت ان کے مکہ میں قیام تک عام انسانوں سے پوشیدہ رہنے کا انتظام طے ہے۔ یعنی یہ ان کے پوشیدہ رہنے کا جو دور ہےو جسے اصطلاحاً حضرت ولی عصر کی غیبت کا دور بھی کہا جاتا ہے، اب اس دور میں انسانوں اور خاص طور پر امت کی قیادت و رہبری کا کیا بندوبست ہے!؟ اسلام کے ورلڈ ویو میں حضرت آدم علیہ السلام زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں۔ خلیفۃ اللہ فی الارض کا آسان اردو مفہوم کیا ہے!؟ یعنی نائب؟ تو سارا معاملہ ہی نیابت کا ہے۔ غدیر خم میں اعلان ولایت بھی ایک مفہوم میں نیابت کا اعلان تھا۔ نائب کے لیے ایک اور لفظ جانشین بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں اور خاص طور پر ایمان لانے والوں اور والیوں کو تین اطاعتوں کا حکم قرآن شریف میں دیا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی۔ سارا اختلاف اس کج فہمی کا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کو مسلمان اہمیت نہیں دے رہے۔ اولی الامر کو سمجھ نہیں پا رہے۔ اگر اس اولی الامر کی درست معرفت ہوتی تو امت میں بالکل بھی اختلاف نہ رہتا، کیونکہ اولی الامر ہی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ دوسرا معاملہ عنوان اور اصطلاحات کا بھی ہے، کیونکہ اللہ نے بھی قرآن میں مختلف نوعیت کی ولایت کا تذکرہ کیا ہے۔ مومن مومن کا اور مومنہ مومنہ کی ولی، لیکن ان کی ولایت کا مینڈیٹ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ لیکن جس ولایت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے رسول حضرت محمدﷺ کے لیے بیان کیا، اسی آیہ ولایت میں حالت رکوع میں زکات دینے والے کو بھی مومنین کا ولی قرار دیا  اور غدیر خم میں خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ نے فرمایا کہ جس جس کا میں مولا اس اس کا علیؑ مولا، تو یہاں اور زیادہ وضاحت ہوگئی کہ حالت رکوع میں زکات دینے والی ہستی بھی یہی ہیں۔ البتہ یہ سب نکات محض اصل موضوع کو سمجھنے کے لیے مقدمے کے طور پر سمجھنا لازم ہیں۔

شیعہ اسلام کے پیروکار اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصول دین کے لیے سب سے پہلے درجے پر عقلی دلائل قائم کیے جاتے ہیں۔ توحید، عدل، نبوت، امامت اور قیامت، دین اسلام کے ان اصولوں پر فقہاء، عرفاء و علمائے دین نے عقلی دلائل پیش کیے ہیں۔ لہٰذا عقل یہی کہتی ہے کہ بارہویں معصوم امام مہدی کی غیبت کے دور میں انسانوں پر ایک مرکزی سرپرست، راہنماء، قائد و رہبر کا ہونا اصول دین کا ایک تقاضا ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر جاتے وقت اپنے پیروکاروں میں اپنا نائب حضرت ہارون چھوڑے بغیر نہیں جایا کرتے تھے اور جب خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ اس امت کو بغیر ولی و سرپرست کے نہیں چھوڑ کر گئے تو یہ سنت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے دور میں کیوں کر تبدیل سمجھ لی گئی!؟ ولایت کا بہت ہی آسان مفہوم سرپرست ہے۔ ہر گھر کا، برادری و قبیلے کا ایک مرکزی سرپرست ہوتا ہے۔ ولایت فقیہ اسی ولایت کا تسلسل ہے اور اس ولایت کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہی ہے۔ گیارہویں معصوم امام حسن عسکری علیہ السلام کی مشہور و معروف حدیث بھی ہے اور خود امام زمان کی توقیع بھی ہے۔ مرجعیت اور ولایت فقیہ ان فرامین کی روشنی میں بھی قابل فہم ہے۔

ایک عام مثال اسلامی تاریخ ہے۔ خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کے اپنے دور میں جب وہ مدینہ منورہ میں حکومت اسلامی کے بانی کی حیثیت سے اللہ کے حکم کو نافذ کیا کرتے تھے، تب بھی دنیا کے مختلف علاقوں میں ان کے مقرر کردہ نمائندے ہی ان کی نیابت میں مختلف امور کو انجام دیا کرتے تھے۔ امیر المومنین مولا علی ؑکے دور حکومت میں جب کوفہ دارالحکومت تھا، تب بھی ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ یعنی ایک نظام اور میکنزم شروع سے نافذ رہا ہے۔ وہ عقل جو اسلام کے آگے سر تسلیم خم کرچکی ہے، وہ یہ کیسے مان لے کہ انسانوں اور خاص طور پر امت کو امام مہدی (ع) کے مکہ میں قیام سے پہلے کے اس طویل عرصے میں بغیر کسی مرکزی سرپرست کے چھوڑ دیا گیا ہے!؟ کیسے!؟ اگر غیبت حضرت ولیعصر (عج) میں یہ مان لیا جائے کہ کسی کو بھی جانشین مقرر نہیں کیا گیا، یا نہیں کیا جاتا تو یہ دعویٰ تو سال گیارہ ہجری میں سقیفہ میں بھی سامنے آیا تھا۔ آج جو کوئی بھی اس موقف کا حامی ہے کہ معصوم کی غیبت (یعنی اس طرح موجود نہ ہونا جیسے پہلے معصومین علیہم السلام عوام الناس کے سامنے موجود رہے) ایسے دور میں ان کا کوئی جانشین یا نمائندہ نہیں تو وہ کسی اور مسلک کا ہے، شیعہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ شیعہ اسلام کی محکم دلیل ہی یہی ہے کہ انسانوں کے لیے اور خاص طور پر امت کے لیے ایک مرکزی رہنماء ہستی کا ہونا لازم ہے، خواہ اس ہستی کو انسان یا امت اپنا حاکم مانے یا نہ مانے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی موجودگی میں نمرود اگر حاکم ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرعی حاکم بھی نمرود ہی تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں اگر عزیز مصر حاکم تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرعی حاکم بھی وہی تھا۔ الٰہی قیادت و رہبری کا معاملہ شروع سے واضح ہے۔ بھلے دنیا کسی کو بھی اپنا حاکم مان لے، اس سے الٰہی نمائندگان کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ نے اعلان نبوت کیا، تب انبیائے ماسبق کی امتیں یہود و نصاریٰ کے دو بڑے عنوان کے تحت موجود تھیں، تو کیا ان سبھی نے حضرت محمدﷺ کو خاتم الانبیاء مان لیا!؟ آج تک نہیں مانا اور دنیا کے سات ارب انسانوں میں اکثریت بھی غیر مسلموں کی ہے، یعنی وہ انسان اکثریت میں ہیں جو خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کو اللہ کے نبیﷺ کی حیثیت سے اپنا دینی پیشوا نہیں مانتے۔ اسی طرح خاتم الانبیاء ﷺ کے اعلان کردہ مولا علی ؑ کو اس حیثیت سے نہ ماننے والے بھی ہیں کہ جو حیثیت خود خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ نے بیان فرمائی۔ یہ اتنا مشکل موضوع نہیں ہے بشرطیکہ اصول دین سمجھنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے، اسی طریقے پر عمل کریں تو۔

انہی مثالوں کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ غیبت حضرت ولیعصر (عج) میں بھی انسانوں اور خاص طور پر امت کو بغیر کسی مرکزی ہستی کے نہیں چھوڑا گیا ہے۔ البتہ بہت سے لوگ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ عقلی لحاظ سے کہا جائے تو جب خانہ کعبہ میں امام مہدی (عج) قیام کریں گے، تب بھی دنیا بھر میں ان کی حکومت نائبین یا نمائندگان ہی کے توسط سے ہوگی۔ نائبین کی تعداد ایک سے زیادہ ہونا بھی مسئلہ نہیں، لیکن ان میں بھی مرکزی نائب کا ایک ہی عہدہ ہونا عقلی لحاظ سے قابل فہم بات ہے۔ جو کوئی بھی اسلامی اصول دین کو ملحوظ رکھتے ہوئے متوجہ رہے تو ہر دور میں امت اور انسانوں کی قیادت و رہبری و سرپرستی کے الٰہی بندوبست سے انکار ممکن نہیں۔ معصوم کی امامت شیعہ اسلام میں ایک اصولی معاملہ ہے جبکہ معصوم کی امامت کی غیبت کے دور کا مرکزی نظام ولایت اسی کا ایک حصہ ہے۔  اسی لیے میری نظر میں یہ ایک اصولی معاملہ ہے، فروعی نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ کوئی مملکت یا معاشرہ غیبت ولیعصر (عج) کے دور میں اسے حاکم مانے یہ نہ مانے، اس سے ولی فقیہ کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ سمجھنے کے لیے یہاں چند مثالیں پہلے ہی بیان کی جاچکیں۔ البتہ اس وقت پوری دنیا میں ایران واحد اسلامی مملکت ہے، جہاں ولایت فقیہ رسمی اور آئینی طور پر قوت نافذہ کے ساتھ عملی موجودگی رکھتا ہے۔ لہٰذا حضرت ولیعصر (عج) کی غیبت کے دور میں اثناء عشری شیعہ مسلمانوں کی مرکزی دینی اتھارٹی ولی فقیہ آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ای ہی ہیں۔ جب ہولی سی ویٹکن سٹی کا حکمران پوپ فرانسس پوری دنیا کے رومن کیتھولک کرسچن کا مرکزی مذہبی پیشوا ہوسکتا ہے اور پوری دنیا اسے اس عنوان سے محترم اور مقدس مان رہی ہے تو ایران کے امام خامنہ ای کو اثناء عشری شیعوں کا مرکزی دینی پیشوا ماننے پر اعتراضات کرنے والوں پر اعتراض وارد ہوتا ہے۔

پاکستان میں جو ولایت فقیہ اور امام خامنہ ای صاحب کے مقلدین کا میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں یا کروا رہے ہیں، وہ پاکستان کے شیعہ اثناء عشری مسلمان شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق پر حملہ آور ہیں۔ آئین کے تحت پاکستان کے ہر شیعہ مسلمان شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ قرآن و سنت کی تشریح اپنی مسلمہ فقہ کے تحت کرے اور ہم امام خامنہ ای صاحب کی تشریح کو مانتے ہیں تو اس پر اعتراض، مخالفت اور میڈیا ٹرائل کیوں!؟ ایک رائے یہ ہے کہ ریاست پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی امریکی و سعودی و اماراتی لابی اس گھٹیا حرکت میں ملوث ہے اور غالی و ناصبی تکفیری سمیت بہت سے گھٹیا لوگ سوشل میڈیا پر اور اپنے حلقوں میں یہ مذموم مہم چلاتے ہیں اور بعض سکیورٹی ادارے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتے، لیکن بے قصور محب وطن شیعہ خواص اور بزرگان کو جبری قیدی بنا لیتے ہیں۔ کیا ریاست پاکستان کے ان ملازم اداروں کو اثناء عشری شیعہ مسلمان شہریوں کے آئینی حق سے یا اسلامی شق پر عمل کرنے سے کوئی مسئلہ ہے؟ اگر ہے تو بول دے کہ شیعہ مسلمان پاکستان میں غیر شیعہ عقیدے پر عمل کرنے کے پابند ہیں!؟ کیا ایسا نہیں ہے!؟ ہمارے پاس اس موضوع پر دلائل کا پہاڑ ہے، لیکن اس تحریر میں اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ قارئین سے تحریر کی طوالت پر معذرت خواہ ہوں۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں