انسانی حقوقانصافبرابری کے حقوقبھارتجرمنیحقوقکالم و مضامین

رسوم کا عقوبت خانہ

– کالم و مضامین –

نصیر احمد
ناصر احمد

رسوم کا عقوبت خانہ

سے ، ناصر احمد

دَلّت ہندوستان کے قدیمی ذات پات کے نظام کے سب سے نچلے درجے پر ہیں۔ دلت لفظ کا مطلب ہی شکستہ اور خستہ ہے۔ انھیں ہری جن بھی کہا جاتا ہے۔ دیوتا کی اولاد ہونے کے با وُجود خستہ اور شکستہ؟ لیکن ہندوستان میں خستگی اور شکستگی تقدیس سے ایسی گُھلی ملی ہے کہ جدائی نہیں ہو پا رہی۔

ہندوستان میں دلتوں کی تعداد 160 ملین سے زیادہ ہے۔ ان کی تقریباً اسی فیصد کی آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ وہ ہندوستان کی غریب ترین آبادی کا نوے فی صد ہیں۔ اور ہندوستان کی نا خواندہ ترین آبادی کا پچانوے فی صد ہیں۔

غربت اور نا خواندگی ان کو مزید نا تواں بناتی ہے اور ہندوستانی، بل کہ جنوبی ایشیائی ثقافتی نظام نا تواں پر ظلم کرنے کی مسلسل حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ سارے نظام تقدیس کے نام پر فاشزم پر استوار ہیں۔ ہندوستان میں دلت نا تواں ترین ہیں اس لیے اس ان پر مظالم بھی شدت اور کثرت سے ہوتے ہیں۔

اس طرح کے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں کہ ہر گھنٹے میں دو دلتوں کو پیٹا جاتا ہے۔ ایک دن میں تین دلتوں کا ریپ ہوتا ہے اور ایک دن میں دو دلت قتل کیے جاتے ہیں۔

ایک سال یعنی سال 2000 میں 22445 دلتوں کے خلاف مختلف اقسام کے جرائم کیے گئے۔ اور زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ دلتوں کے خلاف زیادہ تر جرائم رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

سماجی پابندیاں تو شاید ہٹلر کے نیورمبرگ قوانین سے بھی کڑی ہیں۔ گاؤں میں دلت وہ سیما نہیں پار کر سکتے جو انھیں اعلیٰ ذاتوں سے جدا کرتی ہے۔ وہ گاؤں کے کنویں نہیں استعمال کر سکتے، مندروں میں نہیں جا سکتے، کھوکھوں اور ڈھابوں میں کھانے پینے کے برتن نہیں استعمال کر سکتے۔ سکول میں دیگر ہندو ذاتوں یعنی برہمنوں، کھشتریوں، ویشوں ساتھ کلاس میں دلت بچے نہیں بیٹھ سکتے۔

ہندوستان میں دلتوں کے تحفظ کے قوانین بھی موجود ہیں۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل سترہ چھوت چھات پر پابندی عائد کرتا ہے۔ آرٹیکل چودہ ہندوستان میں موجود افراد کو مساوی آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

آئین میں رنگ، نسل، مذہب، ذات پات، صنف اور جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز سے تحفظ کی شقیں بھی موجود ہیں۔ آبادی کے تناسب کے حساب سے حکومتی اور معاشرتی امور میں کم نمائندگی کی شقیں بھی موجود ہیں۔ حکومتی ملازمتوں میں بائیس فی صد نمائندگی جیسے اقدامات بھی دلتوں کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔

ہندوستانی آئین کے آرٹیکل پندرہ میں یہ لکھا ہے کہ کسی بھی فرد کو ریستورانوں، ہوٹلوں، دکانوں اور تفریح گاہوں کی رسائی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

دیگر قوانین میں دلتوں کو زبر دستی کچرا کھلانے، اور ننگی پریڈ کرانے اور جبری مشقت کرانے پر بھی پابندی عائد ہے۔

ہندوستان نے انسانی حقوق کا تحفظ کرتے عالمی معاہدوں پر بھی دست خط کیے ہیں۔ ان حقوق میں انسانی برابری کے حقوق، انسانی عظمت کے حقوق، زندگی، آزادی اور سلامتی کے حقوق، انصاف اور تلافی کے حقوق، جبری مداخلتوں سے تحفظ کے حقوق اور دیگر انسانی حقوق موجود ہیں۔

یہ سارے قوانین ہندوستان میں اکثریتوں نے منظور کیے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان سارے قوانین پر عمل در آمد کیوں نہیں ہو رہا؟

اس وقت بھی نہیں ہوا جب ہندوستان میں جمہوریت پسندوں کی حکومتیں تھیں۔ اب تو مودی جی ہیں جو ناٹزی اور فاشسٹ نظریوں کی کچرا کاپیاں کرنے والے نظریاتیوں کے پیرو ہیں۔ اب تو عمل در آمد ہونے کے امکانات اور کم ہو گئے ہیں۔

دلتوں کی یہ درگت فاشزم ہی تو ہے۔ اس بات کی گواہ ہے کہ ہندوستانی معاشرے اپنی قدیم ثقافتوں کے مسلط کردہ فاشزم سے باہر آنے کو تیار نہیں ہیں۔ جمہوری قوانین بن تو جاتے ہیں لیکن عوام کی ایک کثیر تعداد ان پر عمل نہیں کرتی۔ لیکن اگر فاشزم کو سَر نِگوں کرتے قوانین بنتے ہیں تو معاشرہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایسے قوانین نافذ نہ ہوں۔

کیس تو کوئی نہیں بنتا کہ صدیوں پہلے کسی نے کچھ لوگوں کو آلودہ قرار دیا تھا اس لیے موجودہ زمانے میں کروڑوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جائے؟ سادہ سی بات ہے کہ یہ جہالت ہے اور جہالت مقدس نہیں ہو سکتی۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستانی لوگ جمہوری نہیں ہونا چاہتے۔ ان کے لیے فرد، اس کے حقوق اور فرد کے فرائض قدیم اور جدید فاشزم سے اہم نہیں ہیں۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد عقل مند، rational، بھی نہیں ہونا چاہتی۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمہوری قوانین پر عمل نہیں کرنا چاہتی۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد انسانیت کا فروغ بھی نہیں چاہتی۔ جمہوریت پسند اس بڑی تعداد کو خوش کرنے کے لیے جمہوری قوانین اور جمہوری اصولوں پر سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ مودی جیسے فاشسٹوں کے لیے تو یہ بڑی تعداد طاقت کی بنیاد ہے۔

اور یہ لوگ عقل مند، جمہوری، شہری اور بہتر انسان کیوں نہیں ہونا چاہتے؟ اس لیے کہ جس طرزِ زندگی کو وہ مقدس سمجھتے ہیں، وہ عقل، جمہوریت، جمہوری قوانین، شہریت اور انسانی اچھائی کا سامنا نہیں کر سکتا۔

درجہ بندی کے اس سلسلے کی ہر سطح پر ظلم موجود ہے۔ اور ان سب سطحوں پر ہر کسی کو کسی نہ کسی پر ظلم کرنے کا معاشرتی لائسینس موجود ہے۔ خرد،جمہوریت، شہریت اور انسانیت اس لائسینس کی تنسیخ کر دیتے ہیں۔ اس لائسینس کی تنسیخ سے صدیوں کی جہالت پر مبنی تقدیس کی بھی تنسیخ ہو جاتی ہے۔

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں