امریکہانسانی حقوقبرابری کے حقوقبھارتبین الاقوامیتارکین وطنچینحقوقسیاسی حقوقشامکرکٹکشمیرکورونا وائرسناروے

بھارت اب ’آزاد ملک نہیں رہا‘: فریڈم ہاؤس کی رپورٹ

دنیا میں جمہوریت پر نظر رکھنے والے ایک امریکی ادارے نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بھارت کا درجہ ’آزاد‘ سے ’قدرے آزاد‘ ملک پر کم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ’بدقسمتی سے بھارت کو آمریت کی سمت دھکیل رہے ہیں۔‘

’جمہوریت محاصرے میں‘ کے نام سے جمعرات کو شائع ہونے والی ’فریڈم ہاؤس‘ کی سالانہ ’فریڈم ان دا ورلڈ 2021‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں سال 2014 میں مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے شہری حقوق بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس صورت حال میں سال 2019 میں ان کی اکثریت کے ساتھ دوسری بار کامیابی حاصل کرنے کے بعد تیزی آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں ’انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، دانشوروں اور صحافیوں کو دھمکایا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی نفرت انگیز حملے کیے جا رہے ہیں جن میں مشتعل ہجوم کی جانب سے قتل عام بھی شامل ہے۔‘

اس سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک کی سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں کی بنیاد پر درجہ بندی کی جاتی ہے اور ہر ملک کو تین درجہ بندیوں میں سے ایک میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان تین درجہ بندیوں میں آزاد، قدرے آزاد اور آزاد نہیں کے درجے شامل ہیں۔

اس فہرست میں کل سکور 100 پوائنٹس کا ہے جو کہ ’مکمل آزاد‘ ملک کو دیا جاتا ہے۔ فہرست میں بھارت کا سکور گذشتہ سال 71 سے کم ہو کر رواں سال 67 ہو گیا ہے، جبکہ 211 ممالک اور علاقوں میں بھارت کا درجہ 83 سے گر کر 88 ہو گیا ہے۔

فن لینڈ، ناروے اور سویڈن کو آزاد ترین ممالک کا درجہ دیا گیا ہے اور ان کا سکور 100 ہے جبکہ تبت اور شام کو ایک سکور دیا گیا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں کام کرنے والے اس تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ بھارت کا ’آزاد ممالک کی کلیدی فہرست سے نیچے آنا‘ دنیا بھر میں جمہوری معیارات کے لیے برے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’گذشتہ سال حکومت نے تعصب پر مبنی قوانین کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ کیا اور درجنوں صحافیوں کو گرفتار کیا جنہوں نے حکومت کی کرونا کی وبا سے متعلق پالیسیز پر تنقید نشر کی تھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارت کے سکور میں کمی کی ایک وجہ دباؤ میں آئی عدالتی آزادی بھی ہے، اس کے علاوہ آزادی اظہار کو روکنے کے لیے بغاوت کے قوانین، کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران مہاجرین کا بحران، انٹرنیٹ پر آزادی میں تیزی سے آتی کمی اور سال 1992 میں بابری مسجد کو منہدم کرنے والوں کی بریت بھی ان وجوہات میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں ’بھارتی کشمیر‘ کو انفرادی طور پر ’جزوی آزاد‘ کا درجہ دیتے ہوئے اس کا سکور 28 سے کم کر کے 27 کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں تبلیغی جماعت کے بارے میں منفی سوچ پھیلانے اور ان کی گرفتاری کی جانب بھی اشارہ کیا گیا جس میں دہلی میں ہونے والے ایک تبلیغی اجتماع کا تعلق کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز سے جوڑا گیا تھا۔ بعد میں گرفتار کیے گئے تمام 36 افراد کو عدالت نے بری کر دیا تھا۔

رپورٹ میں تبدیلی مذہب ’لوو جہاد‘ کی مخالف پر مبنی قانون کی  منظوری کی بھی نشاندہی کی گئی جو بھارتی ریاست اترپردیش میں منظور کیا گیا۔ اس قانون کے تحت ریاست بین المذاہب شادیوں کے ذریعے کی جانے والی مذہب کی زبردستی تبدیلی کو روک سکتی ہے۔ رپورٹ میں اس قانون کے تحت کئی مسلمان مردوں کی گرفتاری کا بھی ذکر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مودی کی حکومت میں بھارت نے اپنے عالمی جمہوری رہنما کے کردار کو چھوڑ دیا ہے جبکہ تنگ نظر ہندو قوم پرست مفادات کو ترجیح دی جا رہی اور اس کی قیمت بھارت کے وہ بنیادی اقدار ادا کر رہے ہیں جن کے تحت سب کو شمولیت اور برابری کے حقوق حاصل تھے۔

رپورٹ میں صرف بھارت ہی وہ ملک نہیں تھا جس کے سکور میں کمی واقع ہوئی ہے۔ گو کہ مصنفین کے مطابق بھارت کی بڑی آبادی کے تناسب کے وجہ سے پہلی بار ’آزاد‘ ممالک میں رہنے والے افراد کی تعداد میں 20 فیصد سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کیے جانے والے باقی ممالک میں چین بھی شامل ہے۔ جو رپورٹ کے مطابق کووڈ 19 کے آغاز سے ہی ’عالمی طور پر غلط خبروں اور سینسر شپ مہم‘ کی کوشش کر رہا ہے۔

بیجنگ حکومت کے جمہوریت پسند تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد ہانگ کانگ کے سکور میں بھی تین پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔

بیلاروس کے سکور میں آٹھ پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے جس کی وجہ اگست کے انتخابات کے بعد  آمر الیگزینڈر لوکا شینکو کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی تحریک کو سختی سے کچلنا ہے۔

الجیریا اور وینزویلا جو گذشتہ سال سے سیاسی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں کہ سکور میں دو پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں