پاکستان

میانمار میں احتجاج جاری، یکم فروری سے اب تک 21 افراد ہلاک

میانمارمیں فوجی بغاوت کیخلاف عوام کا احتجاج جاری ہے، یکم فروری کے بعد سے اب تک 21 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

میانمارکے اقتدار کے بے دخل کیے جانے والے صدر پر قانون توڑنے کے الزامات سمیت دو نئے چارجز بھی عائد کردیئےگئے، ان الزامات کےتحت انہیں تین سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

یاد رہے کہ میانمارکےصدر کو آنگ سان سوچی کےہمراہ یکم فروری کو گرفتار کیاگیاتھا ان پر کوروناوائرس پر قابو پانےکیلئےاقدامات کی خلاف ورزی کا بھی الزام ہے۔

میانمار: فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج جاری، سیکڑوں افراد گرفتار

میانمار:فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج جاری، سیکڑوں افراد گرفتار

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف عوام کا احتجاج آج بھی جاری رہا، مظاہرین کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن میں ہلاک افراد کی تعداد 21 ہوگئی، ایک ماہ کے دوران چھ صحافیوں سمیت سیکڑوں افراد گرفتار کر لیے گئے۔

ینگون سمیت مختلف شہروں میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرتے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، مظاہرین نے پولیس سے بچنے کے لیے گلیوں اور راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا۔

یکم فروری کے بعد سے فوجی بغاوت کے خلاف جاری احتجاج میں 20 سے زائد مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

دوسری طرف آسیان ممالک کے وزرائے خارجہ نے میانمار فوج سے ویڈیو کال میں جمہوریت کی بحالی اور آنگ سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ماخذ: جنگ کی خبریں

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں