امریکہبھارتبین الاقوامیپاکستانچینکشمیرلاہور

پاک بھارت سیز فائر کے پس پردہ عوامل کیا ہیں؟

پاکستان اور بھارت کے تعلقات تاریخ کے جس موڑ پر پہنچ چکے ہیں اس سے یہ لگتا ہے کہ شاید ان میں بہتری کی کوئی امید سامنے آئے  تاہم عین اس دن امید کی کرن دکھائی دی جس دن پاکستان بھارتی طیارہ مار گرائے جانے کی خوشی منا رہا تھا اور بھارت اس کو اپنی کامیابی سے تعبیر کر کے اپنی عوام کی ذہن سازی کر رہا تھا۔ جس ایل او سی پر گذشتہ کچھ برسوں میں آگ گولہ بارود برستے رہے اور لوگوں کی جانیں لیتے رہے، اب وہاں جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے۔ راولپنڈی اور دہلی سے کہا گیا ہے کہ دونوں افواج 2003 کی جنگ بندی کے معاہدے کے اب پابند رہیں گی۔ یہ بہت اہم تبدیلی ہے مودی حکومت کے پچھلے پانچ سال کی پالیسسی میں – بالاکوٹ پر حملہ، کشمیر کا بٹوارہ اور بھارت سےالحاق، کشمیری شہریوں پر قید و بند کے مظالم اور پابندیاں۔

بھارت نے جو کچھ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ کیا اس سے نہیں لگتا تھا کہ دونوں ممالک بھی مممول کے حالات کی طرف پلٹیں گے۔ نہ صرف بھارتی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدامات بلکہپاکستان کے خلاف منظم طر یقیے سے دہشت گردی، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف زہرآلود میڈیا پروپیگینڈا، سارک کو معوف کرنے کی مہم – تو ہر اقدام اٹھا اور وہ وہ بات ہوئی جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے۔ س پس منظر میں تو یہ ایل او سی کا ایک بڑا فیصلہ ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے پاکستان میں جو کہا جا رہا ہے وہ یہ کہ پاکستان بھارتکے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشن چند ماہ سے بات کر رہے تھے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر فائرنگ سے انسانی نقصانات ہوتے ہیں ان کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔  اس وجہ سے اس سیز فائر پر پہلے دونوں ممالک کی فوجی قیادت نے بات کی پھر اپنی سیاسی قیادت سے بات چیت کی اور بلاآخر اس پر سیاسی قیادت نے بھی رضا مندی ظاہر کی۔ 26 فروری کے سیز فائر سے آگے توقع تو یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گی اور دونوں ممالک کے ہائی کمشنر جو کچھ برس پہلے جو 2019 میں نکال دیئے گئے تھے واپس بھیج دیئے جائیں گے۔

بلاشبہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی ملاقات اور سیز فائر ایک بہت بڑا قدم ہے جس کو بھارت میں بہت پزیرائی ملی ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس اقدام کو سراہا گیا ہے مگر پاکستان اس وقت اپنے داخلی مسائل خاص طور پر ضمنی اور سینٹ کے انتخابات میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اس خبر کو وہ وقعت نصیب نہیں ہوسکی جو ہونی چاہیے تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے اور کیوں کر ہوا؟ بعض ذرائع نے دعوٰی کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی ملاقات سے قبل یہ معاملات اعلٰی سطح پر طے ہوئے ہیں اور ان افسران کی ملاقات سے قبل پاکستان کے سیکورٹی کے مشیر معید یوسف اور بھارت کے سیکورٹی مشیر اجیت دوول کی کولمبو میں خفیہ ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک کی طرف سے تناؤ کو کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کوشش بھارت کی طرف سے کی گئی ہے۔

اگر امریکہ میں بائیدن اقتدار میں نہ آتے تو یہ سیز فائز شاید ہو پاتا کیونکہ بھارت جانتا ہے کہ بائیڈن اس بات کو ہرگز پسند نہیں کریں گے کہ دونوں ممالک کے مابین مسلسل کشیدگی ہو۔ یہ بات درست ہے کہ بائیڈن کسی وقت پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے اور اوبامہ دور حکومت میں انہوں نے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کا بیان بھی دیا تھا۔ اس لیے مودی سرکار چاہتی ہے کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے انگلی اٹھانے سے قبل ہی اپنی خارجہ پالیسی کو بائیڈن کی منشا کے مطابق ترتیب دے لے تاکہ پاکستان اس سے کوئی سٹریٹیجک یا سفارتی فائدہ اٹھا لے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی سرکارنے پاکستان کی اعلی قیادت کو خفیہ ملاقات کا پیغام بھیجا تاکہ سیز فائر سے شروع کر کے آگے بڑھا جا سکے اور دیگر معاملات پر بھی بات چیت کی جا سکے وگرنہ یہ کسی طور ممکن نہ ہوتا کہ پاکستان کے خلاف نفرت سے اپنی سیاست کو چمکانے والی بی جے پی سیز فائر کی طرف جاتی۔

دوسری جانب جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو پاکستان کے لیے یہ حد درجہ مشکل ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اس صورتحال میں اپنے تعلققات استوار کرے جب وہ کشمیریوں پر حد درجہ مظالم توڑ رہا ہے مگر پاکستان بھی بائیڈن انتظامیہ کی ترجیحات سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اس کشیدگی کو ہرگز پسندنہیں کرے گی۔ مزید برآں پاکستان نے ہمیشہ سے امن کی بات کی ہے اور یہ ممکن نہیں تھا کہ بھارت کی جانب سے اس طرح کی پیشکش سے پاکستان انکار کر دیتا۔ مزید برآں اس سارے عمل میں پاکستان کو جو بات نظر آرہی تھی وہ وہ فٹیف کی گرے لسٹ ہے ۔ پاکستان ہر صورت فٹیف سے چھٹکارا چاہتا ہے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری پاکستان کو اس عمل میں مدد دے سکتی ہے۔ اس بات چیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت چین کے ساتھ کشیدگی کے ساتھ مشرقی بارڈر پر بھی کشیدگی برداشت نہیں کر سکتا اس لیے یہ چاہتا ہے کہ کم از کم ایک طرف سے اسے سکون حاصل ہو۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں یہ سیز فائر مستقبل کی بات چیت کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے تو اس بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ بھارت کی موجودہ حکومت کی سیاست کا سارا دارومدار پاکستان دشمنی پر ہے اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی اس کی لائف لائن ہے اس لیے داخلی سیاست کو برقرار رکھنے کے لیے مودی سرکار ہرگز پاکستان سے مذاکرات نہیں کرے گی۔ مزید برآں پاکستان ان مذاکرات کا مرکز کشمیر اور لداخ کو بنانا چاہے گا جو بھارت کو کسی صورت قبول نہیں ہوسکتا اس لیے مسقتبل میں اس سیز فائر سے اچھی امید نہیں لگائی جاسکتی۔

بدھ، 3 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں