بین الاقوامیپشاورتارکین وطنکراچیکوئٹہلاہور

سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹ الگ :کے پی میں سازش یا منافقت معاملہ بگڑگیا

اسلام آباد : سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹوں کو الگ کردیا گیا،اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن کا معرکہ ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ بیلٹ سے ووٹنگ ہوئی۔

سینیٹ الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، ایوان بالا کی 37 نشستوں کا فیصلہ ہونے میں کچھ دیر کا مزید انتظار ہے۔اسلام آباد کی 2 نشستوں، سندھ اسمبلی کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 12،12 نشستوں پر امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کچھ دیر میں ہوگا۔

قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبرچترالی کے سوا تمام 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ بیلٹ پیپر پر دستخط کی وجہ سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری طرف قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے 7 کو الگ کردیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق الگ کیے گئے 7 ووٹوں کے مشکوک ہونے کا امکان ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں تمام 65 اراکین نے ووٹ ڈال دیے۔ سندھ اسمبلی میں 168 میں سے 167 اراکین نے ووٹ ڈالا، جماعت اسلامی کے رکن عبدالرشید نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

خیبرپختونخوا میں پولنگ سست روی کا شکار رہی اور وہاں ایک گھنٹہ تاخیر سے تمام 145 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن کے لیے صبح 9 بجے سے 5 بجے تک پولنگ جاری رہی۔

الیکشن کمیشن کے اسٹاف نے اسمبلیوں کا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا، قومی اسمبلی کے عملے کا ایوان میں داخلہ بند تھا اور ہال میں صرف الیکشن کمیشن کے عملے اور ارکان ووٹر کو داخلے کی اجازت تھی جب کہ میڈیا کے بھی پریس گیلری میں فون لے جانے پر پابندی عائد تھی۔

پولنگ کے آغاز پر قومی اسمبلی میں ریٹرننگ افسر نے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق اعلان کیا اور ووٹ مسترد تصور ہونے سے متعلق بھی بتایا۔ریٹرننگ افسر ظفر اقبال نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے انتخاب ہو رہا ہے ، کوئی بھی شخص ووٹ پر نشان درج نہ کرے ورنہ ووٹ مسترد ہو جائے گا جب کہ دو لوگوں کو پہلی ترجیح دینے پر بھی ووٹ مسترد ہو جائے گا۔

دوسری طرف غیرسرکاری نتیجے کے مطابق سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے آزاد امیدوار عبدالقادر کامیاب ہوگئے ہیں۔بلوچستان سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کےامیدوار مولاناعبدالغفورحیدری بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے امیدوار محمد قاسم بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔

ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کے لیے قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ پی ٹی آئی کے میاں شفیق آرائیں اور دوسرا ووٹ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کاسٹ کیا۔

سندھ اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن کے لیے پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے رکن ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔

بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پہلا ووٹ صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی نے کاسٹ کیا۔

سینیٹ انتخابات کا سب سے دلچسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہےجہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں ہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب کی تمام 11نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آبادکی 2، خیبر پختونخوا کی 12، سندھ کی 11 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔

دوسری طرف کے پی میں کل 14 ووٹ مسترد ہوئے ہیں جن میں 11 ووٹ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے اراکین کے ہیں‌، جس پرعمران خان نے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں