انسانی حقوقبین الاقوامیپاکستانتارکین وطنحقوقکراچی

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

تحریر: سویرا بتول

شہید خرم ذکی پاکستانی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن جنہیں ہم سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے، مگر یادوں کی بارات میں آج بھی وہ زندہ ہیں اور اکثر یوں گماں ہوتا ہے کہ ابھی کہی سے آجائیں گے اور کسی موضوع پہ مفصل گفگتو کریں گے۔ خرم ذکی کو 7 مئی 2016ء رات نارتھ ناظم آباد کراچی میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ اپنے ایک ساتھی راؤ خالد کے ساتھ ایک ریستوران میں رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائر کھول دیا۔ دونوں شدید زخمی ہوئے۔ ساتھ میں ایک راہگیر بھی گولیوں کا نشانہ بنا۔ تاہم خرم ذکی اسپتال پہنچنے تک دم توڑ گئے اور ملک میں تشدد، انتہاء پسندی اور مذہبی منافرت کے خلاف ایک دلیر آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

کسی دانشور، صحافی، سماجی کارکن یا انسانی حقوق اور مذہبی ہم آہنگی کی بات کرنے والے کسی شخص پر یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والا پاکستان کا یہ نامور اور بہادر صحافی صرف چالیس برس کا تھا۔ اِس کا بنیادی قصور یہ تھا کہ ملک میں مذہبی انتہاء پسندی اور فرقہ پرستی کو چیلنج کرنے کے لیے انہوں نے بے خوفی سے آواز بلند کی اور شاید یہی اِن کا قصور تھا، ایسے موقعوں پر فیض احمد فیض کا شعر اکثر یاد آتا ہے:؎
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

ہمارے شہداء کی فہرست اِس قدر طویل ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ انسان کس کس شخصیت کی بات کرے۔ ہمارا خون آج بھی اس وطنِ عزیز میں اِتنا ہی سستا ہے، جتنا کل تھا۔ یہاں اربوں ڈالرز اور ریالوں کی سرمایہ کاری کی گئی، نجی عسکری تنظیمیں بنائی گئیں اور نفرت پر مبنی نعرے لگوائے گئے۔ اُس کے بعد یہ کہنا کہ پاکستان میں شیعہ سنی دہشتگردی ہے، سراسر غلط ہے۔ کہنے دیجیے کہ یہاں صرف مکتبِ اہلِ بیت علہیم سلام کے ماننے والوں کا خون سستا ہے اور فقط ہمارے ہی گلے بے دردی سے تکفیریت کے ہاتھوں کاٹے جاتے ہیں۔ اہل سنت ہماری جان ہیں۔

تکفیریت نے ہمیشہ ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کیا، تکفیری سوچ شیعہ سنی اختلاف پیدا کرنا اور اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ کرنا چاہتی ہے۔ تکفیریوں کو کنٹرول کرنا ریاستی اداروں کیلئے ضروری ہے، ورنہ آج ہم جس آگ میں جل رہے ہیں، جلد ہی وہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
لہو لہو ہے زبانِ قلم بیاں کے لیے
یہ گل چُنے ہیں شہیدوں کی داستاں کے لیے
ہَمَیں تو منزلِ آخر ہے آستانِ حسینؑ
یہ سر جھکے گا نہ اب اور آستاں کے لیے
سُخن کی تاب کہاں اب، کہ دل ہے خوں ناصر
زبانِ تیر چلی ایک بے زباں کے لیے

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں