اسرائیلامریکہانسانی حقوقایرانبھارتپاکستانحقوقسعودی عربصحتعمانمعیشتیمن

سعودی اونٹ پہاڑ کے نیچے آ گیا ہے

جو بائیڈن کے اقتدا رمیں آنے کے بعد سب سے زیادہ پریشانی دو ممالک کو لاحق ہوئی ہے  ۔ یہ دو ممالک سعودی عرب اور اسرائیل ہیں۔ دونوں ممالک امریکہ کے قریبی حلیف سمجھے جاتے ہیں اور آج تک امریکہ ان دونوں ممالک کے غیر قانونی اقدامات پر پردہ ڈالتے آیا ہے خاص کر انسانی حقوق کی جس قدر خلاف ورزی ان دو ممالک نے کی ہے دنیا کے کسی اور ملک نے نہیں کی مگر پھر بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کا نام ڈھکے چھپے الفاظ میں لیتی ہیں ۔ یہ دونوں ممالک بجا طور پر ٹرمپ دورحکومت میں امریکہ کہ اصل حکمران تھے اور ٹرمپ حکومت نے وہی کیا جو انہوں نے کہا۔ تاہم ٹرمپ کی شکست کے آثار کے ساتھ ان ممالک کی پریشانی میں بھی اضافہ ہوگیا کیونکہ یہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ بائیڈن انتظامیہ ان کی حرکات کی وجہ سے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والی نہیں۔

یہ بات بھی بجا ہے کہ جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ذاتی عناد بھی رکھتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ کیپٹل ہل میں ہونے والے واقعات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کچھ کیا اس پر جو بائیڈن خاموش رہے تاہم بائیڈن نے ہر اس گروہ اور ملک کو نشانہ بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب تھا یا اس کا حامی تھا۔ اور اسی طرح بائیڈن انتظامیہ نے ہر اس گروہ یا ملک کے ساتھ اچھے رویے کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ ٹرمپ کے دورہ حکومت میں معتوب تھا۔ اس وقت سب سے زیادہ پریشان یہودی اور سعودی لابی ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ ان کے ساتھ سخت رویہ اپنائے گی جس کا حالیہ مظاہرہ امریکہ نے محمد بن سلمان کے ساتھ روا رویے سے کیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے خلیجِ عمان میں ملک کے ایک کارگو بحری جہاز پر پراسرار حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا ہے تاکہ بائیڈن انتظامیہ کی ہمدردی سمیٹی جا سکے اور انہیں ایران سے متنفر کیا جاسکے۔

اسرائیل کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ کا رویہ تاحال واضح نہیں کہ وہ نتین یاہو سے کیا سلوک کرتی ہے تاہم سعودی عرب کے بارے میں جو بائیڈن کے اقدامات سے یہ بات واضح ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ملک کے لیے بائیڈن کا دور حکومت خوشگوار نہیں ہوگا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک ماہ کے اندر اگر کسی حلیف ملک کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں تیز تر سرگرمی دکھائی ہے تو وہ ہے سعودی عرب ہے۔سب سے پہلے تو بائیڈن نے یمن جنگ میں سعودی عرب کی مدد ختم کی، بڑی اسلحہ ڈیل کو منجمد کیا، پھر سعودی ولی عہد، جو عملی طور پر بادشاہ کے اختیارات سنبھالے ہوئے ہیں، ان کی تحقیر کی اور وائٹ ہاؤس نے شاہ سلمان سے ٹیلیفون پر رابطے سے پہلے یہ وضاحت کی کہ صدر بائیڈن شاہ سلمان کے ساتھ بات کریں گے اور ولی عہد کسی بھی طرح ان کے ہم منصب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی کہا گیا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، اس کے لیے تعلقات ’ری سیٹ‘ کرنے کی اصطلاح استعمال کی گئی۔

امریکا اور سعودی عرب تعلقات میں سب سے ڈرامائی موڑ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کا اجرا ہے۔ امریکی کانگریس نے اس رپورٹ کی اشاعت لازم قرار دی تھی لیکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رپورٹ کی اشاعت روک رکھی تھی۔ اس رپورٹ میں کچھ بھی نیا نہیں، سعودی ولی عہد کے خلاف کوئی ثبوت بھی نہیں، حالات و واقعات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کی گرفتاری یا قتل کا حکم دیا تھا۔ یہ وہی نتیجہ ہے جو 2 سال پہلے اخذ کرکے میڈیا کو بتایا جاچکا ہے۔ اس رپورٹ کے اجرا سے یوں لگتا ہے کہ بائیڈن سعودی ولی عہد کی ساکھ خراب کرنا چاہتے ہیں اور یہ ان ڈیموکریٹ اراکین کانگریس کے ایما پر کیا جا رہا ہے جو سعودی ولی عہد کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی اور ذاتی مراسم کی سزا دینا چاہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرانے کی وجہ کیاہے؟ کیونکہ محض بن سلمان کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دے دینے سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ اصل معاملہ الگ ہے، جو بائیڈن ایک گھاگ سیاسی ہیں اور مخالفین کو دبانا جانتے ہیں۔ ممکنہ طور پر ولی عہد کی سربراہی میں قائم ویلتھ فنڈ، جسے پبلک ویلتھ فنڈ پابندیوں کی ذد میں آجائے کیونکہ اس فنڈ کے کرتا دھرتا محمد بن سلمان ہیں اور جس طیارے پر قاتل سکواڈ خشوگی کو قتل کرنے گیا تھا وہ طیارہ اسی فنڈ سے خریدا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کا پبلک ویلتھ فنڈ 360 ارب ڈالر حجم کا ہے اور دنیا کے 8ویں بڑے ویلتھ فنڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ویلتھ فنڈ سعودی عرب کے طویل مدتی معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ اگر یہ فنڈ پابندیوں کی ذد میں آجاتا ہے تو سعودی معیشت زمین بوس ہونے کا خدشہ ہے تاہم تعلقات کو خرابی سے بچانے کے لیے یہ ممکن ہے کہ بن سلمان خود براہ راست پابندیوں کی ذد میں نہ آئیں تاہم ویلتھ فنڈ پر پابندی کا مطلب سعودی معیشت کا کباڑہ کرنا ہے۔

یہ تمام تر صورتحال بادشاہ سلمان کے لیے پریشان کن ہے جو یمن جنگ، ملک کی سیکورٹی اور اسلحے کی خریدو فروخت کے لیے ہمیشہ سے امریکہ کے محتاج رہےہیں۔ امریکہ کی جانب سے منہ موڑنے کا مطلب یمن جنگ میں شکست اور سعودی معیشت کا جنازہ ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک طویل عرصے بعد سعودی اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے۔

منگل ، 2 مارچ ، 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں