اسرائیلامریکہانسانی حقوقایرانبحرینبھارتپاکستانچینحقوقدفاعروسسعودی عربشامیمن

سعود یہ مخالف، ایران موافق، نئے امریکی عہد کی آمد- روزنامہ اوصاف

جوبائیڈن عہد کی آمد سے ایران مخالف امریکی عہد ختم ہوچکا ہے۔ ایرن پر جو صدر ٹرمپ کے تیار کردہ نیتن یاہو و عرب اتحاد کا شد ید مخالفانہ   عہد تھا و ہ اب تمام ہوچکا ہے۔ اگر جذباتی ، مشتعل مذہبی ایرانی ذہن20 جنوری سے پہلے جنرل سلیمانی کے قتل کے انتقام کے نام پر کچھ ’’بڑا کام‘‘ کر دیتے تو یقینا ایران پر حملہ ہو جانا  تھا۔ ماہرین نجوم و فلکیات بار  بار میرے سامنے ان خدشات اور اندیشوں کا ذکر کرکے مجھے کہتے کہ لکھو کہ ایرانی اذہان 20 جنوری تک بہت زیادہ ضبط نفس اور صبر سے کام لے ورنہ مارے جائیں گے۔مقام شکر ہے کہ ایرانی مدبرین دور اندیش نکلے۔

قرآن پاک میں  ہے کہ ’’ہم یہ دن انسانوں میں تبدیل کرتے رہتے ہیں‘‘ صدر ٹرمپ کاعہد، محمد بن سلمان، نیتن یاہو، جیرڈکشنر کا ایران مخالف  کردار واضح طور پر  قدم قدم پر طلوع ہوتا تھا، صدر ٹرمپ نے جمال خاشقجی قتل کو نظر انداز کیا تھا، سعودیہ اور عربوں کی بھرپور مدد کی تھی، اپنا اسلحہ خوب بیچا، یمن جنگ میں حمایت کی۔ یمن جنگ کے حوالے سے تو میں بھی سعودیہ، امارات اتحاد کی مکمل حمایت کرتا رہا ہوں، آج بھی یمن کے حوالے سے سعودی اندیشے، خدشات، خطرات کو درست سمجھتا رہا ہوں۔ اسی لئے یمن کے حوالے سے  میں نے حوثیوں کے خلاف  اکثر کالم لکھے تھے آج بھی حوثیوں کو مکمل فتنہ سمجھتا ہوں اور فتنے کی سرپرستی کوئی بھی کرے اس پر تنقید کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
میری خواہش ہے کہ ماضی بعید کی یمن میں زیدی بادشاہت واپس لوٹ آئے۔ مگر یہ  اکیلے حوثیوں کی بادشاہت ہرگز نہ ہو بلکہ 70 فیصد شافعی اور زیدیوں کی مشترکہ متفقہ بادشاہت ہو۔
صدر بائیڈن انتظامیہ میں صدر اوبامہ عہد کے اور صدر بش عہد کے جنگجو جمع ہوچکے ہیں جبکہ صدر اوبامہ کا عہد عربوں سے بھرپور بے وفائی ، منافقت اور ایران سے بہت زیادہ قرب کا عہد تھا۔ بظاہر اب یہی عہد دوبارہ لوٹ آیا ہے جوبائیڈن انتظامیہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کا آغاز کرچکی ہے جبکہ امریکہ یورپی اتحاد میں واپس آرہا ہے۔
جوبائیڈن عہد کے آنے سے ایران کی اپنی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے گزشتہ چالیس سال میں پہلی مرتبہ کسی ایرانی وزیر دفاع نے بھارت کا دورہ کیا ہے۔ مجھ سے کچھ اطراف نے بار بار کہا ہے کہ چین اور پاکستان کو چھوڑ کر  اب ایران    دوبارہ  سے بھارت اور امریکہ کا اتحاد بن رہا ہے؟
ماضی میں امارات، سعودیہ، بحرین وغیرہ مکمل بھارت نواز ہوچکے تھے۔ جبکہ چاہ بہار سے بھارت کو نکال دینے کے بعد ایران، چین اور پاکستان کی طرف کھل کر چلا گیا تھا  مگر اب یہ سب کچھ تبدیل ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔
صدر جوبائیڈن چین سے کشیدگی کم اور  روس کو اپنا اصل دشمن بتانے میں نئی امریکی سیاسی کارخ پیش کررہے ہیں۔ گویا خود امریکی رویئے میں اسٹرٹیجک یہ تبدیلی اور انسانی حقوق اور جمہوریت کے حوالے  سے شدید دبائو کا نیا عہد بن رہا ہے۔ میانمار کی فوجی حکومت پر شدید دبائو اس کا مظہر ہے مگر بھارت پر تاحال دبائو موجود نہیں۔
صدر جوبائیڈن نے محمد بن سلمان کو  واحد فیصلہ ساز سعودی ذہن قبول کرنے کی بجائے شاہ سلمان کے آئینی منصب سے رابطے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گویا وائٹ ہائوس میں ذاتی طور پر محمد بن سلمان کی مخالفت کا عہد طلوع ہوچکا ہے یوں آل سعود کے دیگر شہزادوں کی اہمیت بحال ہوسکتی ہے۔ امریکہ معتوب شہزادوں کو سامنے لانے کی کوشش کرسکتا ہے ۔ کیا سعودی عرب کے لئے بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیاں مستقبل میں کافی مسائل پیدا کریںگی؟ جوبائیڈن انتظامیہ اگلے ہفتے ایک انٹیلی جنس رپورٹ منظر عام پر لارہی ہے جس کے سبب جوبائیڈن انتظامیہ کے سعودی عرب سے تعلقات کافی کشیدہ ہوسکتے ہیں یعنی محمد بن سلمان سے ذاتی طور پر زیادہ تلخی  ، کشیدگی اور جواب میں محمد بن سلمان کا ردعمل کیا ہوگا؟
نیتن یاہو کے خلاف بھی جوبائیڈن انتظامیہ وہ رویہ اپنائے گی جو اسرائیل کی داخلی سیاست میں امریکہ کو غیر جانبدار بناسکے۔ شام میں نیتن یاہو کے حملے کا اندیشہ بڑھ رہا ہے۔  دیار الزور میں ایرانی ملیشیا اپنا اسلحہ زمین دوز تہہ خانوں اور سرنگوں میں منتقل کررہے ہیں جبکہ روس ایک ائیرپورٹ بند کرکے اسرائیلی حملے کے لئے  میدان صاف کرچکا ہے۔ گویا شام میں اگر لڑائی  ہو تو اس میں روس شامل نہ ہو بلکہ ایران و اسرائیل میں ہو، مطلب نیتن یاہو کے ساتھ۔

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں