امریکہحقوقشامصحتکالم و مضامین

منہ پھٹ کی یاد میں اک شام!

– کالم و مضامین –

قلندر شہر کے فائیو سٹار ہوٹل کے سب سے بڑے ہال میں تھا جہاں ایک سے ایک دانشور منہ پھٹ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے موجود تھا۔منسٹری آف خر چر کے زیر اہتمام اس شام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ منہ پھٹ کی حمد و ثنا کیلئے سٹیج پرقلندر سمیت نامی گرامی ہستیاں موجود تھیں مثلاً ملک کے صدیوں پرانے زندہ جاوید شاعر جناب انکسار سفارش، ان ہی کے ہم عمر ہم عصر کیبل ٹی وی کے تاحیات چئیر مین و مینیجنگ ڈائیریکڑ و جنرل و ایڈمن مینیجر اینڈ نائب قاصد جناب چمچا الحق خوشامدی، جید جاہل انگریزی کالم نویس جناب خطیر پاجی، وزارت خرچر کے سیکریڑی جناب چغد برحق اور خوشامدی صاحب کے ہونہار شاگرد جناب کراہت وجود ٹٹو ۔

ہال کچھا کھچ بھرا ہو تھا۔ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ سب سے پہلے جناب فارغ صاحب کو بولنے کی دعوت دی گئی۔ موصوف اٹھنا چاہ رہے تھے لیکن اٹھ نہ سکے۔ قلندر نے انکے کان میں سرگوشی کی، وجہ بتائی کہ وہ کیوں نہیں اٹھ پا رہے۔ موصوف سرکار سے تھوک کے حساب سے ملے سب تمغے سینے پہ سجائے اور میڈلز گلے میں پٹے کی طرح ڈالے پدھارے تھے۔ ان کا وزن اتنا تھا کہ وہ تو کیا آرنلڈ شوارزینگر بھی نہ اٹھا سکے۔

فارغ صاحب نے قلندر کا شکریہ ادا کیا پھر ایک ایک کر کے اپنی ذات کو ان تمام نگینوں سے آزاد کیا اور  دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی مگر یاد آیا کہ ڈاکٹروں نے کھڑا ہونے سے منع کیا ہوا ہے۔ فارغ صاحب نے ساری عمر محفلوں کے صدارت کی تھی۔ گھنٹوں گھنٹوں بغیر کروٹ لیے کرسی پر براجمان رہے تھے۔  ادب کی خدمت کرتے کرتے اپنے آپ کو بواسیر جیسے مرض میں مبتلا کر چکے تھے۔ لہذا کھڑا ہونا ان کی صحت کیلئے مضر ٹہرا۔ بیٹھے بیٹھے فارغ صاحب نے حاضرین محفل کو بتلایا کہ کس طرح منہ پھٹ کے رخصت ہونے سے دنیائے ادب میں ایسا خلا پیدا ہو چکا ہے جو رہتی دنیا تک پر ہونے والا نہیں۔ اس بات پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اسکے بعد انہوں نے فرمایا کیسے انہوں نے منہ پھٹ کی مدد کی تھی جب اسکی دوسری بیوی آٹھواں بچہ جنم دینے جا رہی تھی اور منہ پھٹ کے پاس زچہ بچہ سینٹر کو ادا کرنے کے لئے پیسے نہ تھے۔ پھر انہوں نے تفصیل سے بیان کیا کہ کیسے انہوں نے مسلسل دو سال منہ پھٹ کے گھر میجی بےبی کے ڈبے مفت بھجوائے۔

چمچا الحق صاحب دو ایسے راز افشاء کرنا چاہتے تھے جو یہ پچھلے دو سو برس سے سینے میں چھپائے بیٹھے تھے۔ پہلا یہ کہ منہ پھٹ سے بڑا شاعر و ادیب آج تک پیدا نہ ہوا۔ دوسرا یہ کہ منہ پھٹ کا نام شاہی خلعت کے لئے انہوں نے ہی تجویز کیا تھا۔ افسوس خلعت ملنے سے چند منٹ پہلے منہ پھٹ کا بلاوا آ گیا۔

کراہت وجود ٹٹو صاحب نے منہ پھٹ کی تعریف میں ایک لمبا چوڑا مضمون انتہائی اختصار سے پڑھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ منہ پھٹ وقت سے ذرا پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ابھی تو ان کی عمر ہی کیا تھی۔ یہ حضرت بھی سینے میں اک چھپا ہوا راز لیک کر کے سکون کی موت مرنا چاہتے تھے۔ فرمایا کہ جب انہیں اپنے مرشد جناب چمچا الحق کی جوتیوں کے صدقے میں شاہی خلعت بمعہ جوتے ملی تو اسکے آدھے پیسے انہوں نے منہ پھٹ کے اکاؤنٹ میں فی الفور آن لائن ٹرانسفر کر دیے۔ منہ پھٹ عمر کے آخری دنوں میں انہیں پیسوں سے مشروب مشرق و مغرب پیا کرتا تھا۔ کراہت صاحب کا مختصر دورانیے کا مضمون کوئی ڈھائی گھنٹے بعد جب ختم ہوا تو لنچ اور نماز کا وقت شروع ہو چکا تھا۔ وقفے کے دوران کھانے سے اجتماعی زیادتی کے نتیجے میں آدھا ہال خالی ہو چکا تھا۔ پورا خالی نہ ہو سکا کیونکہ ابھی چائے اور سنیک کا وقفہ باقی تھا۔

خطیر پاجی صاحب کے بقول منہ پھٹ کی عالمگیر شہرت انکے کالموں کی مرہون منت تھی جو انہوں نے روزنامہ انٹ شنٹ میں منہ پھٹ کی تعریف میں چھاپے تھے۔ سیکریڑی خر چر جناب چغد برحق صاحب نے منہ پھٹ کو الہامی شاعر قرار دیتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ کیسے انہوں نے اپنے اندرونی اور بیرونی کنٹیکٹ استعمال کر کے منہ پھٹ کیلئے جب وہ زندگی کے آخری دن کسمپرسی میں گذار رہا تھا  مبلغ پانسو روپے ایسی خطیر رقم  کا ماہانہ وظیفہ مقرر کروایا۔ منہ پھٹ سچ مچ میں عظیم انسان تھا۔ اپنے محسنوں کو ہر گز نہیں بھولتا تھا۔ روزانہ چغد صاحب کے گھر بطور شکرانہ حاضری دیا کرتا تھا۔ اسی وظیفے کی بدولت منہ پھٹ کی شاہانہ زندگی آخری دن تک مکمل ٹھاٹ باٹھ کیساتھ چلی۔ چغد صاحب نے ایک بات کی تصحیح کرنا ضروری سمجھا۔ وہ تھی کہ منہ پھٹ کی شاہی خلعت کے واسطے نامزدگی خود انہوں ہی نے اپنے ناپاک اور گنہگار دست مبارک سے فرمائی تھی۔

یہ چغد بکواس کر رہا ہے جی۔ نامزدگی میں نے ہی کروائی تھی۔ اور اس بات کا ذکر روزنامہ بکواسیات نے اپنے فلاں اداریے میں بھی کیا تھا۔ چمچا الحق غصے پہ قابو نہ رکھتے ہوئے پھٹ پڑے۔

ابے جا! یہ دونوں بکواس کر رہے ہیں جی۔ نامزدگی اور وظیفہ میرے کالم کی بدولت ہوا۔” میدان میں کودتے ہوئے پاجی صاحب بولے۔

قلندر کافی دیر سے ان سب کی بکواس برداشت کر رہا تھا۔ اچانک جلال میں آ گیا اور بولا کہ سب اپنی اپنی بکواس بند کرو تا کہ میں اپنی شروع کر سکوں۔ سب نے  سہم کر کہا بسمہ اللہ۔ قلندر کے لیپ ٹاپ میں ایک تاریخی فلم تھی۔

“کس نے منہ پھٹ کے لئے کیا کیا کارنامے انجام دیے یہ سب آپکو اس فلم میں مل جائیگا۔” یہ کہتے ہی قلندر نے پلے کا بٹن کلک کر دیا۔

فارغ صاحب دفتر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ امریکہ سے فون آتا ہے۔ وائیٹ ہاؤس میں اسوقت کے صدر ابراہیم لنکن نے ایک مشاعرہ منعقد کیا ہوا ہے۔ درخواست کی جاتی ہے کہ منہ پھٹ صاحب کو بھجوا دیا جائے۔ فارغ صاحب کہتے ہیں منہ پھٹ صاحب بہت مصروف ہیں۔ انہیں چیچہ وطنی میں ایک عظیم الشان مشاہرے میں شرکت کرنی ہے۔ البتہ ملک کے عظیم ترین شاعر انکسار فارغ کو بھیجا جا سکتا ہے۔ وائیٹ ہاؤس کہتا ہے کوئی بات نہیں۔ منہ پھٹ کو اگلے مشاعرے میں بلا لینگے۔ فی الحال فارغ صاحب سے کام چلا لیتے ہیں۔

پاجی صاحب جنکے تلوے چاٹتے رہتے تھے انکی سرکار ہے۔ منہ پھٹ ایک عظیم الشان ادبی منصوبے پر کام مکمل کر چکا ہے۔ پاجی صاحب اس منصوبے کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ منہ پھٹ کو کھڈے لائن لگوا کر یہ کام چٹکی بجاتے کر لیتے ہیں۔

چمچا الحق صاحب کے پاس مکمل اختیار ہے حقدار کو شاہی خلعت سے نوازنے کا۔ بورڈ کی سفارشات منہ پھٹ کے حق میں ہیں۔ چمچا صاحب صندوق سے شاہی خلعت نکال چکے ہیں۔ اتنے میں ٹٹو کراہت وجود وارد ہوتا ہے۔ انکی مالش کیلئے اپنے پنڈ سے خالص جڑی بوٹیوں کا تیل لیکر آیا ہے۔ ویاگرا کی دس ہزار گولیاں مل کر بھی اس تیل کی ایک مالش کا مقابلہ نہ کر سکیں، ایسی تاثیر تھی اس میں۔ چمچا صاحب مالش کروا کر پوچھتے ہیں خوشامدی ٹٹو بول تجھے کیا چاہیے۔ ٹٹو کہتا ہے منہ پھٹ کی شاہی خلعت۔ چمچا صاحب کہتے ہیں جا تیری مراد پوری ہوئی۔

ٹٹو ہیرا منڈی میں  کسی کوٹھے پر ہے۔ ہاتھ میں شراب کی بوتل اور بغل میں کنجری ہے۔ شاہی خلعت کے ساتھ جتنا پیسہ ملتا ہے سب وہیں لٹا کر شب غم  اپنے گھر گذارنے چلا جاتا ہے۔

خر چر منسٹری کے سیکریٹری صاحب منہ پھٹ کیلئے پچاس ہزار ماہانہ کو وظیفہ منظور کراکے ہر ماہ اسے پانسو پر ٹرخا دیتے تھے۔ جب منہ پھٹ آتا مشروب مغرب سے اسے مدہوش کر کے رسید پچاس ہزار کی سائن کروا لیتے۔ ابھی فلم باقی تھی کہ چائے سنیک سے اجتماعی زیادتی کا وقفہ ہو گیا اور وہ گھمسان کا رن پڑا کہ رہے نام اللہ کا!

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں