برطانیہپاکستاندفاعڈپلومیٹکصحتکاروبارکراچیکوئٹہلاہور

نواز شریف کا ایکسپائرڈ پاسپورٹ اور ضمنی انتخابات میں حکومتی پارٹی کی شکست































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی ، مریم نواز، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے کئی مسائل کا باعث بن رہے ہیں ۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مریم نواز اور اُن کے ابا جی کا بیانیہ خاصا تلخ بھی ہے اور مسائل پیدا کرنے والا بھی ۔ سینیٹ کے انتخابات نزدیک تر آنے کی وجہ سے حکومت اور پی ڈی ایم کے درمیان تلخیاں مزید بڑھ گئی ہیں ۔لندن میں بیٹھے نواز شریف پی ٹی آئی کی حکومت کیلئے دردِ سر بن چکے ہیں ۔ اس پیش منظر میںخانصاحب کی حکومت نے نواز شریف کو وارننگ دی تھی کہ اگر اُن کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو گئی اور وہ اس دوران پاکستان واپس نہ آئے تو حکومت اُن کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کرے گی ۔ اب یہ تاریخ بھی گزر گئی ہے ، نواز شریف واپس بھی نہیں آئے اور نواز شریف کا پاسپورٹ بھی ایکسپائر ہو چکا ہے ۔اب کیا ہوگا ؟ 16فروری2021ء کو رات کے بارہ بجے نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو گئی اور وہ ای سی ایل پر بھی ہیں ۔ ایسے میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوں بیان دیا :” جس فرد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ہو، اسے پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کی تجدید ہوسکتی ہے لیکن اگر نواز شریف واپس ملک میں آنا چاہیں تو 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی ٹریولنگ ڈاکیومنٹ (ای ٹی ڈی) جاری کیا جاسکتا ہے۔”شیخ رشید احمدنے نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید کے بارے میں مزید کہا:”نواز شریف نے اگر پاکستان آنا ہو اور وہ بیرونِ ملک سفارتخانے میں اپلائی کریں تو انہیں ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جاسکتا ہے جسے ای ٹی ڈی کہتے ہیں اور اگر پاکستان نہ آنا ہو تو سولہ فروری کی رات 12 بجے ان کے پاسپورٹ کی آئینی و قانونی حیثیت ختم ہوجائے گی۔سولہ فروری کی رات 12 بجے نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہورہی ہے، 20 اگست 2018ء سے نواز شریف اور مریم نواز کا نام قومی احتساب بیورو (نیب) کی ہدایت پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے۔ عدالت نے خود کہا ہے کہ ایک مرتبہ باہر جانے کی اجازت دینے کو غلط استعمال کیا گیا اور ہائی کورٹ نے اب خود فیصلہ دیا کہ وہ واپس پاکستان آئیں جس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نواز شریف کو پاکستان آنے سے نہیں روکا جارہا، ان کے پاسپورٹ کی تجدید سولہ فروری کی رات 12 بجے ختم ہورہی ہے اور انہیں پاکستان آنے کے لیے ایمرجنسی ٹریولنگ ڈاکیومنٹ دیا جاسکتا ہے”۔انہوں نے مریم نواز کے ایک تازہ بیان کے حوالے سے کہا:” مریم نواز نے اپنی سرجری کی بات کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اس کے لیے باہر جانے کی درخواست نہیں کریں گی، تو اچھی بات ہے۔ کسی نے نہ درخواست کی نہ ہم نے مانگی۔ یہ تو درخواست گزار پر منحصر ہے کہ وہ نہ دینا چاہے ،یہ اس کی مرضی ہے۔ ویسے مریم نواز کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں درج ہے”۔حیرانی کی بات ہے کہ نواز شریف کا پاسپورٹ ایکسپائرڈ ہوا ہے لیکن اس پر نواز شریف اور اُن کے خاندان کو تو کوئی فکر نہیں ہے لیکن حکومت پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کی بات بلند آہنگ سے کررہی ہے ۔ آخر کیوں؟ یہ بڑا اہم سوال ہے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب نون لیگ کے ایک اہم رہنما (مصدق ملک) سے ایک نجی ٹی وی (آج) کی اینکر () ثنا بُچہ) نے اسی ضمن میں سوال کیا تو اُنہوں نے سپاٹ لہجے میں یوں جواب دیا :” نواز شریف کے پاسپورٹ کی مدت اگر ختم ہو گئی ہے اور حکومت تجدید نہ کرنے کے اعلانات کررہی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ جناب نواز شریف کو جب بھی علاج کے بعد لندن سے ملک واپس آنا ہوگا، آ جائیں گے ۔ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انشاء اللہ۔”اس بیان سے بھی واضح ہورہا ہے کہ نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے سے نواز شریف، نون لیگ اور شریف خاندان کو کوئی فکر لاحق نہیں ہے ۔ سوال مگر یہ ہے کہ اب جبکہ نواز شریف کے پاسپورٹ کی مدت بھی ایکسپائر ہو گئی ہے اور وہ پاکستان بھی واپس نہیں آ رہے تو اُن کا مستقبل کیا ہو گا؟ اس موضوع پر ہر کوئی اپنے اپنے خیال کے گھوڑے دوڑا رہا ہے ۔ نواز شریف کی پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ نواز شریف کے پاسپورٹ کے زائد المیعاد ہونے پر نہ ہی پریشان ہے اور نہ ہی پارٹی کے حالیہ اجلاسوں میں اس پر تبادلہ خیال کیا گیا کیونکہ ان کے لیے ‘اس کی کوئی حیثیت نہیں’۔نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نے 5 وجوہات کے باعث اس معاملے پر اپنی دلچسپی کھو دی ہے: پہلا، عمران خان کی حکومت نواز شریف کو واپس لانے کے لیے جو کرسکتی تھی، وہ کیا لیکن ناکام رہی ،یہاں تک کہ پی ٹی آئی حکومت نے اب پاسپورٹ کے معاملے میں مایوسی کا اظہار شروع کر دیا ہے، حکومت نے اس پر ایک مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی، عارضی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہا اور برطانوی حکومت کو خط لکھا لیکن ناکام ہوئی۔یہ معاملہ حکومت کے لیے اس وقت مزید خفت کا باعث بنا جب وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عمران خان نے انہیں ہدایت کی ہے کہ نواز شریف کو نیا پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے جس نے پورا معاملہ عمران خان کی جانب موڑ دیا۔یہاں تک کہ ناکامی اور سیاسی قیمت کی وجہ سے عمران خان بھی گزشتہ کئی ماہ سے اس پر بات نہیں کر رہے تھے۔ اس طرح یہ معاملہ حکومت اور پارٹی کے لیے بھی دم توڑ گیا۔دوسرا یہ کہ سابق وزیر اور پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر موجود لوگوں کے لیے یہ ایک ذاتی مسئلہ سے زیادہ ہے کہ اس موضوع پر پالیسی اور ترجیح کیا ہے۔ صرف نواز شریف کے اہل خانہ خاص طور پر لندن میں موجود ان کے صاحبزادوں اور بیٹی مریم نواز اس بارے میں سب کچھ بخوبی جانتے ہیں۔پارٹی کے لیے اتنا ہی جاننا کافی ہے کہ ان کے رہنما کو 3 وجوہات کی بنیاد پر برطانیہ میں قیام کے دوران کوئی مسئلہ نہیں ہے: ایک، طبی بنیاد پر برطانیہ میں قیام کے لیے 18 ماہ کی قانونی مدت، دوسرا انحصار کا آپشن اور اگر یہ دونوں وجوہات کام نہ کریں تو تیسرا سرمایہ کاری کا راستہ موجود ہے۔نون لیگ کو بتایا گیا کہ اگر ایک شخص کا برطانیہ میں طبی علاج ہورہا ہے تو اسے قانونی طور پر برطانیہ میں 18 ماہ تک رہنے کی اجازت ہے، تاہم نواز شریف کے معاملے میں جو ایک ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھتے ہیں اور 10 سال کا ویزا ہے، انہیں اس طرح کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔جہاں تک پاسپورٹ کا معاملہ ہے تو یہ شہری (نواز شریف) اور اس کی ریاست (پاکستان) کے درمیان ہے۔ برطانوی حکومت کے لیے تشویش کا واحد سبب یہ ہے کہ ملک میں داخلے کے وقت قانونی معاملات ہوں، لہٰذا ان تمام عوامل کا احاطہ کیا گیا ہے اور نون لیگ کی جانب سے کبھی اس سے زیادہ وضاحت نہیں مانگی گئی۔جہاں تک انحصار کے آپشن کا تعلق ہے تو اگر ایک شخص 65 سال کی عمر عبور کرجاتا ہے تو اس پر انحصار کا قانون لاگو ہوتا ہے، نواز شریف کے معاملے میں ضرورت پڑنے پر اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی عمر اور صحت کے ساتھ ضرورت پر اس کا استعمال ہوسکتا ہے اور نواز شریف اپنے صاحبزادے حسن نواز پر انحصار کرنے کی حیثیت سے برطانیہ میں رک سکتے ہیںکہ حسن نواز کا برطانیہ میں اچھا خاصا کاروبار ہے۔آخری بات یہ ہے کہ وہاں سرمایہ کاری کا آپشن بھی ہے اور ایک مخصوص رقم کی سرمایہ کاری کے ساتھ کوئی بھی شخص برطانیہ میں ایک مخصوص وقت کے لیے رک سکتا ہے۔گزشتہ 4 ماہ میں یہ وہ نکتہ ہے جس کے بارے میں نون لیگ کو بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر پریشان ہونا چھوڑ دیں اور ایسا ہی اب ہوا ہے؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نواز شریف کا پاسپورٹ اگرچہ زائد المیعاد ہو گیا ہے لیکن اس کارن نواز شریف ، مریم نواز ، شریف خاندان اور نون لیگ کو کوئی فکر لاحق نہیں ہے ۔ بلکہ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی حکومت اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ببانگِ دہل نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کے اعلانات کرکے دراصل اپنے لئے کوئی نیک سیاسی کمائی نہیں کی ہے ۔اور نواز شریف کو نقصان پہنچانے اور اُن کا راستہ روکنے کی بجائے خود کو نقصان پہنچایا ہے ۔ نقصان تو ویسے بھی پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کو ہرروز ہی پہنچ رہا ہے ۔ عوام کی ناراضیاں روز افزوں ہیں ۔ بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کا سوچا جا رہا ہے ۔ اسلئے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضے دینے کی ہامی بھر لی ہے ۔ گویا یہی قرضہ اب عوام کی ہڈیوں سے نکالا جائیگا۔ یوں حکومت کے خلاف عوام الناس کا غصہ اور طیش روز بروز بڑھ رہا ہے ۔ عوام نے اس غصے کا اظہار اب ضمنی انتخابات میں حکومتی پارٹی اور عمران خان کے خلاف ووٹ ڈال کر کیا ہے ۔ یہ عبرت ناک تازہ نظارہ ہم سب نے دیکھا ہے کہ بلوچستان ، سندھ، کے پی کے اور پنجاب میں ہونے والے سبھی ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے سبھی اُمیدواروں کو زبردست شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف اپوزیشن تو بعد میں عدم اعتماد کی تحریک لائے گی لیکن ضمنی انتخابات میں عمران خان اور اُن کی حکومت پر عوام کا عدم اعتماد پہلے ہو گیا ہے ۔ اس شکست سے حکومت کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں ۔ سندھ کی دونوں ضمنی نشستوں پر پی ٹی آئی ہار گئی ہے ۔ بلوچستان کے ضمنی انتخاب میں بھی پی ٹی آئی فتحیاب نہ ہو سکی اور وہاں جے یو آئی کا امیدوار بھاری اکثریت سے جیت گیا ۔ کے پی کے میں بھی پی ٹی آئی کا امیدوار شکست کھا گیا اور وہاں ( نوشہرہ پی کے63 میں) نون لیگ کے امیدوار( اختیار ولی خان) نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو زبردست شکست دی ہے ۔ یہ شکست اسلئے بھی قابلِ زکر ہے کیونکہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور نوشہرہ کا حلقہ پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا آبائی حلقہ ہے اور خٹک صاحب خود بھی کے پی کے میں وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں لیکن پی ٹی آئی کا امیدوار جیت نہ سکا ۔ اسلئے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کے خلاف عوامی نفرتیں حد سے بڑھ گئی ہیں ۔ پنجاب میں بھی ہونے والے دونوں ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی جیت نہیں سکی ہے ۔ یہ انتخابات 19 فروری 2021ء کو ڈسکہ ( این اے 75) اور وزیر آباد ( پی پی 51) میں ہوئے ۔ یہ دونوں نشستیں نون لیگی ارکانِ اسمبلی کی وفات سے خالی ہوئی تھیں ۔ اور اب ضمنی انتخابات میں وزیر آباد میں نون لیگی امیدوار طلعت محمود چیمہ نے اپنے پی ٹی آئی حریف چودھری محمد یوسف کو ہرا دیا ہے ۔ ڈسکہ میں نون لیگی امیدوار نوشین افتخار شاہ اپنے پی ٹی آئی مدِ مقابل علی اسجد ملہی کو شکست دیتی نظر آ رہی ہیں ۔ یہ تحریر ہفتہ 20فروری کی دوپہر کو لکھی جا رہی ہیں ۔ اس وقت تک ڈسکہ کے انتخاب کا فائنل رزلٹ نہیں آ سکا ہے ۔ بس یہ بتایا جارہا ہے کہ نون لیگی امیدوار دو تین ہزار ووٹوں سے آگے ہے ۔ ڈسکہ میں ضمنی انتخاب خونی بھی ہو گیا ہے کہ دو افراد موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے ۔ نون لیگ اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر قتل کے الزامات لگا رہی ہیں ۔ انگلیاں پنجاب حکومت پر بھی اُٹھ رہی ہیں کہ وہ ڈسکہ میں پُر امن ضمنی انتخاب کروانے میں ناکام رہی ہے ۔ اور ڈسکہ میں پنجاب پولیس کی بھاری نفری تعینات ہونے کے باوصف دو افراد قتل اور تین افراد شدید زخمی ہو گئے ۔

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں