بھارتبین الاقوامیتارکین وطن

کسانوں نے حکومت کی فرعونیت کا سر خم کر دیا… ظفر آغا

جی ہاں، جب حاکم وقت کی فرعونیت حد سے گزر جائے تو پھر اس کو خم کرنے کے لئے ایک موسیٰ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں پچھلے چھ سات برسوں میں حاکم دوراں کا گھمنڈ و غرور اور طرز حکومت کسی فرعون سے کم نہیں رہا۔ کسی نے زبان کھولی تو اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا۔ کسی نے احتجاج کیا تو بھیما کورے گاؤں کے احتجاج کی طرح اس کے شرکاء کو اتنی سزا دی گئی کہ پھر کوئی احتجاج کہیں نہ ہو سکے۔ اگر جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے نوجوان طلبہ نے حکومت وقت کے خلاف سر اٹھایا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے گینگ قرار دے دیئے گئے اور یونیورسٹی میں گھس کر غنڈوں نے گھنٹوں وہاں کے طلبا کے ساتھ مار پیٹ کی اور پولیس باہر خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی۔ پچھلے برس اسی سردی کے موسم میں خود پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گھس کر سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبا سے مار پیٹ کی۔ جب شاہین باغ میں عورتوں کا احتجاج مہینوں چلا تو مشرقی دہلی میں فساد کروا کر پوری مسلم قوم کو سبق سکھایا گیا۔ یہ سارے مظالم خود مرکزی حکومت کے اشارے پر کیے گئے۔ اتر پردیش میں تو یوگی حکومت کی فرعونیت نے فرعونوں کو بھی مات دے دی۔ یہاں تک کہ اگر حکومت کے خلاف ٹوئٹ کیا تو اس کو جیل، سی اے اے قانون کے خلاف کسی نے منہ کھولا تو اس کو جیل، حد یہ ہے کہ مخالفین کے مکان تک گروا دیئے گئے۔

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں