انصافحقوقکالم و مضامینکوئٹہ

لائٹ نہیں آ رہی – ہم سب

– کالم و مضامین –

لائٹ نہیں آ رہی، کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی، کوئی چہرہ پہچانا نہیں جا رہا، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا، ۔ بس آوازیں ہیں، بے ہنگم آوازیں، بے تحاشا آوازیں۔ گھپ اندھیرے میں امیدیں راکھ ہو گئی ہیں، خواب سیاہ ہو گئے ہیں، تعبیر الجھ سی گئی کیوں کہ لوگ کہتے ہیں لائٹ نہیں آ رہی۔

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن سے پہلے اجالے کا ہر امکان مسترد کر دیا گیا تھا، روزن کی ہر کرن بجھا دی گئی تھی، آواز بلند کرنے والا ہر چراغ گل کر دیا گیا تھا، قلم کاروں کی زبان پر تالے لگا دیے گئے تھے، میڈیا کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی گئی تھی، زر خرید اور بے ضمیر لوگوں کی بولیاں لگتی رہیں، سچ بولنے والی ہر شمع بجھا دی گئی، جیسے شہر کی فصیلوں پر دیو کا سایا تھا، ان دیکھا، اجنبی اور انجانا آسیب تھا جو چاروں طرف بد مست سیاہ بادل کی طرح چھا گیا، اندھیرا مٹانے کے لیے تو اجالے کی ننھی سی کرن بھی کافی ہوتی ہے، سیاہی کا پردہ تان کے رکھنے کے لیے اس لطافت کا بھی گلا گھونٹ دیا گیا، اب صرف اندھیرا تھا جو دائمی تھا، اب روشنی ممکن نہیں تھی اس لیے کہ پچیس جولائی دو ہزار اٹھارہ کو عوام کی امیدوں پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ اس ملک کو مایوس کن تاریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ ملک تو اسی دن سے تاریکی میں ڈوب گیا تھا مگر اب شور اٹھا ہے کہ ’لائٹ چلی گئی ہے۔‘

لائٹ پہلی دفعہ نہیں گئی۔ اس ملک پر دہائیوں سے محیط اندھیرے کا راج رہا، اس خطہ زمیں پر وہ گھنیرے بادل چھائے رہے ہیں جہاں سورج کی شعاعیں بھی اپنا راستہ نہیں تلاش کر سکتیں :

پہلے بھی تو روشنی اک کرن کو سولی پر لٹکا دیا گیا، پہلے بھی روشنی کے ایک استعارے کا خون بہا دیا گیا، پہلے بھی روشنی کے ہر منبع کو وطن بدر کر دیا گیا :

پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور نارسائی کے، بے ریا خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی ہے، رہ خداوندی
تم مگر یہ کیا جانو
لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو

(این. میٹر رشید)

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن سے پہلے اس ملک کے باسیوں کو یاد ہی ہو گا جب بلوچستان اسمبلی کا چراغ گل ہو گیا تھا، ترقی کی چکا چوند سے کچھ یاسیت پسند اتنے خوفزدہ تھے کہ سورج کو ہی مدار سے الگ کر دیا، اس پر بھی روشنی ختم نہ ہوئی تو انصاف کے روزن پر سیاہی کا پردہ لگا دیا، تاریکی کو تسلط دے دیا گیا، وہ روشنی جو کرن کرن منور کر رہی تھی اس کے خاتمے کا مکمل بندوبست کیا گیا۔ کبھی وفاداریوں کی تبدیلی کا بٹن دبا دیا گیا، کبھی ویگو ڈالے روشنی کی ہر کرن کی تار کاٹتے رہے، کبھی آر ٹی ایس کا فیوز اڑا دیا گیا۔

کہیں ووٹ دینے والوں کی آنکھوں پر لوڈ شیڈنگ کر دی گئی۔ سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا، سب کے سامنے اس ملک میں اندھیرا مسلط کر دیا گیا، چراغ گل کر دیے گئے، رات کسی شکاری کے جال کی طرح پھیلا دی گئی، نگاہوں پر پردہ ڈال دیا گیا، کچھ نظر نہیں آنے دیا گیا، کچھ خبر نہیں ہونے دی گئی، ہر ممکن کا امکان مسترد کر دیا گیا اور کہا جا رہا ہے کہ لائٹ چلی گئی ہے۔

لائٹ اس ملک میں آتی جاتی رہتی ہے۔ کبھی جمہوریت کا سورج نکلتا ہے تو جلد ہی آمریت کا اندھیرا اس کو نگل لیتا ہے، کبھی چاند نکلتا ہے تو طاغوتی طاقت کے بادل اس کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں، اندھیرے کے راج کا ایک ہی مقصد ہے کہ روشنی کی کوئی کرن اس ملک کے باسیوں تک پہنچ نہ جائے، کوئی جگنو آزاد نہ رہ جائے، کوئی چراغ منور نہ ہو جائے، کوئی ستارہ ٹمٹماتا رہ نہ جائے۔ اس لیے کہ روشنی اندھیرے کو ختم کر دیتی ہے، روشنی ہوتی ہے تو اندھیرا چھٹ جاتا ہے، ننھی سی کرن بھی اجالے کا امکان ہوتی ہے، اس لیے روشنی سے اندھیرا پھیلانے والوں کی بہت دشمنی ہے ، وہ چاہتے ہیں یہاں بس اندھیرا چھایا رہے، یہاں کسی کو روشنی کی کرن بھی نہ نظر آئے، یہاں دماغوں پر آہنی خود چڑھا دیے جائیں، زبانوں کو مقفل کر دیا جائے، آوازوں کو قتل کر دیا جائے، اس لیے کہ روشنی اندھیرے کی شکست کا نام ہے۔ طاقت کے نشے میں بدمست لوگ کہاں ہزیمت برداشت کرے ہیں، ان کو کہاں روشنی راس آتی ہے۔ وہ بس اعلان کرتے ہیں، بس شور مچاتے ہیں کہ لائٹ چلی گئی ہے۔

عجیب ملک ہے جہاں روشنی پھیلانے والوں پر غداری کے فتوے لگتے ہیں، جہاں روشنی تقسیم کرنے والوں پر کرپشن کی تہمت لگتی ہے، جہاں روشنی کے علمبرداروں پر کفر کے فتوے لگتے ہیں، جہاں روشنی کے میناروں پر سیاہی لیپ دی جاتی ہے، جہاں روشنی کے نام اور اس کے استعاروں پر بھی پابندی لگا دی جاتی ہے، جہاں وطن کے وفاداروں پر غداری کے الزام لگتے ہیں۔

اس اندھیر نگری میں ہمیں تاریکی پھیلانے والوں کے چہرے نظر نہیں آتے، وہ اپنے جرم کے خوف کی چادر لپیٹے ہوئے اندھیرے میں ہی رہتے ہیں۔نہ کوئی ان کا چہرہ دیکھتا ہے، نہ ان کی طرف کوئی اشارہ کرتا ہے، نہ کوئی ان کو الزام دیتا ہے، نہ کوئی جرم ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب بھی کوئی اس طرح کی جسارت کرتا ہے، شور پڑتا ہے کہ ”لائٹ نہیں آ رہی“ ، پورے ملک کا سسٹم بیٹھ جاتا ہے، تاریکی مسلط کر دی جاتی ہے، ۔ اس اندھیرے کا فائدہ وہ اٹھاتے ہیں جو تاریکی کے دلدادہ ہوتے ہیں، جن کی آنکھیں روشنی میں چندھیائی رہتی ہیں، جو چراغوں کی ٹمٹماتی لو سے بھی لرز جاتے ہیں۔

ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں ابھی پورے ملک کی لائٹ نہیں گئی۔ یہ واقعہ دو ہزار اٹھارہ کا بھی نہیں ہے۔ بد قسمتی سے اس ملک میں ستر سال سے لائٹ نہیں آ رہی، روشنی نہیں ہو رہی۔

عمار مسعود کی تازہ ترین پوسٹس (تمام دیکھیں)

عمار مسعود کی دیگر تحریریں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں