ایشیابنگلہ دیشبھارتپاکستانتجارتجنوبی ایشیاچینسری لنکامالدیپنیپال

جنوبی ایشیا میں بھارتی چوہدراہٹ زمین بوس ہونے کو ہے: شفقنا خصوصی

بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ڈھاکہ میں‌ پاکستان کے ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے مابین تعقات کی بہتری پر زردو دیا ۔ پاکستان کے مندوب اور بنگلہ دیشی وزیراعظم کے درمیان ایک غیر معمولی ملاقات تھی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے بعد رواں سال اس میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ حسینہ واجد کی سربراہی میں کم ہی پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین تعلقات میں‌بہتری دیکھنے کو آئی ہے اور اس کی وجہ حسینہ واجد کا ماضی ہے تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اب ماضی کی کشیدگیوں‌کو بھلا کر آگے کا سوچ رہی ہیں اور یہی وجہ ہے امسال جولائی میں انہوں‌وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی تھی۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات شروع دن سے اُتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ کشیدہ تعلقات کی ذمہ داری جہاں دونوں ممالک کے حکمرانوں پر رہی ہے وہیں اس کشیدگی کو ہوا دینے میں بھارتی کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے قیام کے بعد سے آج تک بنگلہ دیشی قیادت کا جھکاؤ ہمیشہ بھارت کی طرف ہی رہا اور بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے ہمیشہ بنگلہ دیش کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ تاہم دونوں ممالک کے مابین کشیدگی اس وقت انتہا پر پہنچ گئی جب واجد حکومت نے 2017 میں 1971 کے جنگی جرائم کے نام پر جماعت اسلامی کے بہت سارے لیڈروں کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ جس پر پاکستان نے واجد حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان پھانسیوں کو روکنے پر زوردیا تھا۔ پاکستان نے او آئی سی بھی ان پھانسیوں کو رکوانے کے لیے درخواست کی تھی جس پر بنگلہ دیش نے ایک سخت ری ایکشن میں‌پاکستان کو اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہنےکا اشارہ دیا تھا۔ ان پھانسیوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی نوعیت انتہائی کشیدہ تھی اور یہ صورتحال بھارت کے حق میں تھی جو خطے میں‌اپکستان کو تنہا کر نے کے لیے تمام تر ہتھکنڈے آزما رہا ہے۔

اگرچہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے مابین پچھلے 10-12 برسوں میں بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لیے، جو کچھ بھی وہ کر سکتے تھے جیسے تجارتی فیصلے، زمینی تنازعات اور سکیورٹی سے متعلق فیصلے تھے وغیرہ تاہم مودی سرکار کی ہندوتوا سیاست اور حال ہی میں منظور شدہ شہریت ترمیمی قانون نے بنگلہ دیش کے عوام کے ذہنوں میں انڈیا کے امیج کو نقصان پہنچایا ہے۔ بہت سارے لوگوں نے انڈیا کی پالیسیاں کو مسلمان دشمنی کی حیثیت سے دیکھا۔بنگلہ دیش ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے معاملے کے بعد بنگلہ دیش کے لوگوں کے ذہن میں ایک احساس پیدا ہوا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف ہے۔ اس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے، عوام انڈیا سے ان امور پر ناراض ہیں اور شیخ حسینہ اس بارے میں محتاط ہیں۔ تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ معاملہ محض شہریت کا نہیں بلکہ اس وقت بنگلہ دیش کو سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ بھارت کی بالادست پالیسیوں سےبھی خطرات لاحق ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں‌ جہاں بھارت کی حمایت موجود ہے وہیں ایک مضبوط دھڑا پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے حق میں‌بھی ہے۔ ڈھاکہ میں بھی اس حوالے سے بحث ہو رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مالی فائدے کے لیے ہی سہی روابط بہتر بنائے جائیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی کھل کر بات نہیں کرنا چاہتا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جو دھڑا پاکستان سے بہتر روابط چاہتا ہے وہ بنگلہ دیش کی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو یہ بات منوانے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ پاکستان روہنگیا مہاجرین کا مسئلہ حل کرنے اور انھیں میانمار واپس بھجوانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے بنگلہ دیش میں تقریباً 10 لاکھ کے قریب روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں جس کی وجہ سے چھوٹے سے ملک کی آبادی میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔تاہم پاکستان روہنگیا کے معاملے میں بنگلہ دیش کی مدد کر سکتا ہے۔

حال ہی میں بنگلہ دیش کے اربوں ڈالر کے پراجیکٹ چین کو ملے ہیں اور چین نے بنگلہ دیشی مصنوعات پر سے کئی طرح کے ٹیکس ختم کر دیے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ ملا ہے۔ بنگلہ دیش پاکستان کی ہی طرح چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کا بھی حصہ ہے۔ بنگلہ دیش میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اس نے جس طرح شمال مشرقی انڈیا میں کئی شدت پسند گروہوں کو اپنی سرزمین پر پناہ نہ دینے اور انہیں انڈیا کے حوالے کر کے جس طرح ہمسایہ ملک (انڈیا) کی مدد کی، انڈیا اس کے بدلے تیستا اور دوسرے دریاؤں کے پانی تک پر معاہدہ نہیں کر پایا۔ بنگلہ میں یہ سوچ تیزی سے پنپ رہی ہے کہ بھارت محض پاکستان دشمنی کا سہارا لے کر بنگلہ دیش کا استحصال کر رہاہے اس لیےبنگلہ دیش کو اپنے مفادات کوترجیح دینی چاہیے۔

بھارتی میڈیا نے اس قبل حسینہ واجد اورعمران خان کی ملاقات پربھی کافی واویلا کیا تھا اوردعوی کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان قربت میں چین خفیہ کردار ادا کررہا ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق نیپال ، سری لنکا اور مالدیپ کے بعد بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کا چوتھا ملک ہے جس کیساتھ چین قریبی تعلقات بڑھا کر خطے میں اپنے سیاسی اثرورسوخ میں اضافہ کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ تاہم انڈیا کو سوچنا چاہیے کہ آخر ایک کے بعد ایک قریبی ہمسایہ ممالک جیسے کہ بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، سب اس سے دور کیوں ہو رہے ہیں اور اسے اس بارے میں کیا کرنا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کےتمام چھوٹے ممالک بھارت کی توسیع پسند پالیسیوں اور حاکمانہ رویے سے خائف ہیں اور چین کی پناہ میں آنا چاہتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں موجود تمام چھوٹے ممالک کے اندر بھارت کے لیے ناپسندیدگی کا عنصرپایا جاتا ہےاور یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک بھارت سے دور ہوکر چین کی پناہ میں جا رہے ہیں۔ یہی صورتحال رہی تو بہت جلدبھارت اس خطے میں تنہائی کا شکار ہوجائے گا۔

5، دسمبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں