بین الاقوامیتارکین وطنتعلیم

ہندوستانی مدارس ۔ نئی جہت… اسد مرزا

اس کے علاوہ اگر مدارس کی انتظامیہ لازمی مذہبی تعلیم کے ساتھ اس ماڈیول کو اپنانے کے لیے تیار ہو تو مدارس کے ایسے ناقدین کا منہ بھی بند ہوسکتا ہے جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ مدارس وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مزید برآں ہمیں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اسلام کوئی جامد مذہب نہیں بلکہ ایک متحرک مذہب ہے اور ہم اس کے بنیادی اصولوں کو پوری طرح سے برقرار رکھتے ہوئے اس کے عملی اطلاق میں وسعت پیدا کرسکتے ہیں۔ یہ لائحہ عمل نہ صرف مسلم کمیونٹی کے لیے سود مند ہوگا بلکہ طویل مدت میں یہ مسلمانوں کے لیے گیم چینجر بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں اگر ملاپ جیسے پروگراموں کو اقلیتی امور کی وزارت یا مولانا آزاد نیشنل فاونڈیشن جیسے مرکزی حکومتی اداروں کی جانب سے حوصلہ افزائی کی جاسکے تو اس سے نہ صرف مدارس بلکہ حکومت اور اقلیتی سماج کے ساتھ اس کے روابط بھی بہتر ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔

(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز دوبئی سے وابستہ رہے ہیں)

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں