امریکہبریکنگ نیوزبین الاقوامیپاکستانتارکین وطنخواتینلاہوریورپ

عوام ہی وقت کے رخ کو بدل سکتے ہیں!

ریاست مدینہ کا بنایا ہوا قانون مستند تھا، عدالتیں فیصلے جرائم کی نوعیت کی رو سے کرتی تھیں، مساوات تھی، مجرم چاہے کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو قانون سزا اس کے جرم کی نوعیت دیکھتے ہوئے دیتا تھا، قانون کے سامنے غریب امیر کی کوئی تمیز نہیں تھی، بادشاہ بھی قانون کے سامنے جوابدہ تھا، ریاست مدینہ کا قانون ایک ہزار سال تک رائج رہا پورا یورپ اس سے متاثر تھا، جرائم کی شرح بہت کم تھی۔اب جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کی جارہی ہے تو یہاں پر تو ہر شعبہ زندگی میں جرائم خود رو پودوں کی طرح اُگے ہوئے ہیں، جرم کرنے کے نئے نئے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں، ان پر قابوپانا آسان نہیں کیونکہ یہ جرائم قانون کی اور دولت مندوں کی سرپرستی میں ہورہے ہیں۔
ریاست مدینہ میں جو قوانین نافذ العمل تھے ان سے انحراف ناممکن تھا، حضورﷺ فرماتے تھے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹ دیتا، یہ سب کو معلوم ہے کہ بی بی فاطمہ آپ کے جگر کا ٹکڑا تھیں، مریم نواز جیسی لٹیری عورت شاید اس دنیا میں کوئی نہیں ہے، اس پھولن دیوی کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کیا فیصلہ دیتی ہے، بریکنگ نیوز ’’خاتون ہونے پر مریم نواز رعایت کی مستحق ہے‘‘ یعنی انہیں جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے تو پھر اور خواتین جو معمولی جرائم پر بھی قید ہیں انہیں بھی رہا کیا جائے اور عورت چاہے کتنی بڑی جرائم پیشہ ہو اسے قید میں نہ رکھا جائے، خواتین کی جیلیں ختم کر دی جائیں ،انہیں جرائم کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔
قتل جیسے انتہائی سنگین جرائم کے مرتکب مجرم کو ضمانت دنیا کی کسی عدالت میں نہیں ملتی لیکن زندہ باد لاہور ہائیکورٹ ہر قسم کے جرائم کی ضمانت دیتا ہے، اب تو امریکی مجرمان بھی اپنا کیس لاہور ہائیکورٹ میں داخل کرنے کا سوچ رہے ہیں، دنیا کے بڑے بڑے دانشور، فلاسفرز ریاست مدینہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
لفظ محمدؐ فطرت کی آواز کا نام ہے، باقی سب کچھ ہواں اور دھواں ہے۔(سر تھامس کارلائل)
میں نے محمدؐ کے مذہب کی حیران کن استقامت کی بناء پر ہمیشہ تعظیم کی ہے۔
(عظیم فلاسفر جارج برنارڈ شاہ)
اگر غیر معمولی طور پر Geniusہونے کا فیصلہ کیا جائے تو تین چیزوں سے کیا جائے، عظیم مقصد، انتہائی محدود ذرائع، بے مثال نتیجہ تو کوئی بھی شخص محمد کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا ۔(فرانسیسی فلاسفر لامارٹنی)
کائنات میں اگر کوئی شخص دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے منصفانہ طور پر ایمانداری سے حکومت کی تو وہ صرف محمد ؐ کی ذات ہے۔(سرماسورتھ سمتھ)
صرف ایک مذہب ہے جس کی میں عزت کرتا ہوں اور وہ ہے اسلام۔(ایڈولف ٹیلر)
مختصراً ان دانشوروں کے اقوال رقم کئے ہیں ورنہ انہوں نے ہمارے نبی ﷺ کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے، بہت کچھ لکھا ہے، بہت سے اچھے اعمال کو اپنایا بھی ہے، بہت سے مفید افکار سے استفادہ بھی کیا ہے، اسلامی عبادات کا طریقہ، وقت کی پابندی، سچ کی اہمیت، حلال حرام کی پہچان اور بہت سی اسلامی تعلیمات ایسی ہیں جنہوں نے دنیا کو متاثر کیا ہے اور پاکستان کی سیاست کا یہ حال ہے اور بیچارہ عمران خان جس کے چہرے پر لکھا ہے؎
مجھ سے نہ ہو سکے گی زمانے کی زندگی
مکار بھی نہیں ہوں اداکار بھی نہیں!
سیاستدان بننے کے لئے صرف صداقت اور امانت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انسان میں چالاکیوں، عیاریوں کی سمجھ بوجھ ضروری ہے، یہ نہیں چلے گا کہ ؎
میں تو سمجھا تھا دو چار ہی ہونگے
میرے شہر کا تو ہر شخص منافق نکلا!
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو مشورہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے کیڑے ذرا جھاڑیں جس نے پھولن دیوی کو واحد مقدس گائے مانا ہے، پاکستان میں ان سے زیادہ معصوم کوئی ہے ہی نہیں، اس ملک کا اب تک ڈھائی سال میں عدالتی نظام بھی بہتر نہ بنایا جا سکا تو اور کیا امید رکھی جائے، صرف لاہور ہائیکورٹ کی ہی گوشمالی کر دی جاتی تا کہ وہ صحیح فیصلے کر سکے، ان ڈھیلے ڈھالے رشوت خوروں کو ان کی کرسیوں سے اٹھانا چاہیے جب تک عدالتیں، سکیورٹی ادارے اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام نہیں دینگے تبدیلی نہیں آسکتی۔
آج کے رہنما نئی نسل کو تشدد، خون خرابہ، لوٹ مار، توڑ پھوڑ کی ترغیب دے رہے ہیں، مریم عدالت آئی تو ساتھ میں اس کے گلوں بٹوں کی برات بھی آئی جو گاڑیوں میں پتھر بھر کر لائی تھی، پھولن دیوی کی بکتر بند گاڑی کا شیشہ بھی ایک منصوبے کے تحت توڑا گیا، کورٹ تک جانے کی نوبت ہی نہیں آئی، اب پھر سے پھولن دیوی کو کورٹ آنے کے لئے لاکھوں روپے کا میک اپ کروانا پڑے گا، چونکہ اپنے چہرے کو بنانے سنوارنے کے لئے انہوں نے 22کروڑ کی سرجری کروائی ہے
عوام اٹھ کھڑے ہوں اور نقیب بہار بن جائیں، وقت کے رخ کو بدل دیں، حکمران کے لئے خیر اور منصف مزاجی کا وصف ہونا ضروری ہے اگر حکمران ان اوصاف سے محروم ہے تو شر سے مغلوب ہو کر کمزور فیصلے کرے گا اورنتیجتاً عوام میں اپنی عزت سے محروم ہوتا چلا جائے گا، حکمران کی بقا و دہشت قائم کرنے میں نہیں بلکہ شہریوں کے دل میں گھر کر کے انہیں اچھائی کی طرف راغب کرنے میں ہے، اسی صورت میں ایک بہترین ریاست پروان چڑھ سکتی ہے۔(سقراط)

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں