امریکہایرانبرطانیہبین الاقوامیتارکین وطنجرمنیحقوق

یورپی ممالک سیاسی اختلافات بھڑکانے کے بجائے “جوہری معاہدے” کو مکمل طور پر لاگو کریں، ایران

اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ ایران کے تعاون کے بارے 3 یورپی ممالک؛ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مشترکہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان 3 یورپی ممالک کو سیاسی تفرقہ ڈالنے کے بجائے “ایرانی جوہری معاہدے” اور مشترکہ کمیشن کی طرف سے منظور شدہ شقوں پر مکمل عملدرآمد کے لئے اقدامات اٹھانا چاہئیں اور جوہری معاہدے کو مکمل طور پر لاگو کرنا چاہئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت اور مکمل طور پر قانونی اور تمام ممالک کے لاینفک ذاتی حقوق کے اصول کے عین مطابق ہیں۔

سعید خطیب زادہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے بعد دوبارہ پابندیاں عائد کئے جانے اور پابندیوں کے خاتمے و ایرانی اقتصادی مفاد سے متعلق یورپی وعدہ خلافی پر جوہری معاہدے کی شق نمبر 26 و 36 کے تحت جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں جو جوہری معاہدے کے عین مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اگر مقابل فریق کی جانب سے جوہری معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو (ایرانی جوہری پروگرام کی محدودیت پر مبنی) یہ اقدامات قابل واپسی ہوں گے۔

واضح رہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی مثلت کی جانب سے بدھ کے روز یہ دعوی کیا گیا تھا کہ ان کی نیک نیتی کے باوجود ایران کی طرف سے جوہری معاہدے کی “سنگین خلاف ورزی” کی گئی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ نیک نیتی پر مبنی ان تمام کوششوں کے باوجود گذشتہ ڈیڑھ سال سے ایران کی طرف سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی پر مشتمل متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جبکہ ہم عدم جوہری پھیلاؤ پر مشتمل جوہری معاہدے کے اہم فوائد کے ایران کے ہاتھوں ختم کر دیئے جانے پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔

دوسری طرف عالمی جوہری توانائی ایجنسی میں ایران کے مستقل نمائندے کاظم غریب آبادی نے جمعرات کے روز عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 3 یورپی ممالک کی طرف سے جوہری معاہدے کے تحت دستخط شدہ اپنے معاہدوں پر عملدرآمد نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی و یکطرفہ دستبرداری کے بعد ان ممالک نے بھی معاہدے کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا لہذا اس حقیقت کے باوجود کہ اس معاہدے کے تحت ایران کا قانونی مفاد پورا نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس صورتحال کی اصلاح کے لئے کوئی اقدام اٹھایا گیا ہے؛ ایران سے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرنا منطقی ہے اور نہ ہی عملی۔

مزید دکھائیے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں