افغانستانپاکستانپشاورکراچیکوئٹہلاہور

صوبے قبائلی اضلاع کیلئے این ایف سی ایوارڈ سے تین فیصد حصے کی ادائیگی یقینی بنائیں، وزیر اعظم کا ضلع مہمند میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر عمائدین سے خطاب

پشاور۔28 ستمبر(اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صوبوں کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ میں سے تین فیصد حصہ قبائلی اضلاع کیلئے مختص کرنے کا وعدہ کیاتھا لیکن اب بدقسمتی سے اس وعدے سے انحراف کیا جا رہا ہے جو قبائلی اضلاع کے ساتھ زیادتی ہے۔ ضلع مہمند میں ناحقئی سرنگ اور شیخ زید روڈ کے افتتاح کے موقعے پر ضلع کے عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کا نظریہ ریاست مدینہ ہے، چونکہ یتیموں‘ غریبوں‘ بیواﺅں اور غرباءکی بہتری ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے لھذا اس ذمہ داری کی تکمیل کیلئے تما م دستیاب وسائل بروئے کار لانے کو ترجیح دی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری تمام پالیسیوں کا محور کمزور طبقوں کی بحالی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ہمارے نظریے کا ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ خوشحالی کے سفرمیں تمام علاقوں کویکساں ترقی دی جانے چاہیئے۔ انھوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ دو سال سے حالات برے ہیں، ٹھیک ہونے والے تھے پھر کورونا آگیا، اس وجہ سے پیسہ کم اکٹھا ہوا، کوشش کروں گا کہ کم از کم انضمام شدہ علاقوں اور بلوچستان کو جو فنڈز درکار ہیں وہ ملیں اور ان میں تعطل پیدا نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ ملک دشمن قوتیں مختلف طریقوں سے انتشارپیدا کرنے کی کوششیں کرتی ہیں تاکہ پاکستان بالخصوص قبائلی علاقوں کی ترقی کے عمل کو روکا جا سکے اور ہم نے قبائلی باشندوں کے تعاون سے ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ ہمارے دشمن ان لوگوں کے ساتھ پوری طرح سے رابطے میں ہیں جو نہیں چاہتے کہ قبائلی علاقوں کا انضمام ہو، وہ عناصر پوری کوشش کریں گے کوئی نہ کوئی انتشار پھیلایا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک سے باہر دشمن ایسے عناصر کو فنڈنگ کرتے ہیں، اور بار بار انضمام میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، کوشش ہے کہ قبائلی علاقے کی ترقی میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سمگلنگ پاکستان کو تباہ کررہی ہے، سمگلنگ کی وجہ سے ہماری انڈسٹری ترقی نہیں کرتی، ہم ایکسپورٹ نہیں کر پاتے اور نوجوان کو روزگار نہیں ملتا، جب تک ایکسپورٹس نہیں بڑھائیں گے قر ضوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتے، اس لیے ہمیں سمگلنگ کو ہر صورت روکنا ہےاسی وجہ سے سمگلنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات ہماری ترجیحات کا حصہ ہیں ، انھوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں بارڈر مارکیٹس کے قیام کا فیصلہ سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کی جانے والی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں زیتون کی کاشت کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، زیتون کے درخت لگانے سے وزیرستان تک کے علاقے سے کثیر مالی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں جوزیتون کو ایکسپورٹ کرنے اور زیتون کے تیل کی موجودہ درآمد سے نجات حاصل کرنے کی صورت میں حاصل ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ افغان امن عمل کامیابی سے ہمکنار ہو اس حوالے سے بہت سے مشکلات موجود تھیں جن پر بتدریج قابو پا یا گیا اور باقی ماندہ مشکلات بھی حل ہوجائیںگی۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا تو پورے خطے میں امن اور خوشحالی کا دور شروع ہوگا، قبائلی علاقوں میں بھی خوشحالی کا دور شروع نہ ہو نے کی وجہ افغانستان کے حالات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن )وسطی پنجاب سے ووٹ لیکر آتی ہے اس لیے جنوبی پنجاب پر توجہ نہیں دیتی جبکہ کراچی کے حالات کی خرابی کی ایک وجہ یہ ہے کہ اقتدارمیں آنے والی پارٹی اندرون سندھ سے ووٹ لیکر آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت جنوبی پنجاب، اندرون سندھ‘ بلوچستان اور قبائلی اضلاع جیسے پسماندہ علاقوں کی ترقی پر یکساں طور پے توجہ دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی کو درپیش مسائل کے حل میں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے ۔


مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھئے
Close
Back to top button