پاکستانچترالحقوقخواتیندینیاتکراچیلاہور

فرقہ واریت اور سیاسی گرما گرمی

– آواز ڈیسک –

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے متحرک ہوتے ہی کافی چیزوں میں ارتعاش آنے لگتا ہے۔ سازشی تھیوریاں اس قدر ہیں کہ اب تو ریپ کے کیسز پر ضرورت سے زیادہ میڈیا کوریج ہونے پر بھی شک ہونے لگتا ہے کہ کہیں کچھ بڑا تو چھپایا نہیں جا رہا؟ خیر میڈیا پر موٹروے کے ساتھ ریپ کا واقعہ چھایا رہا اور سچ پوچھیں تو اس طرح کے واقعات معاشرتی جبر میں جکڑی اور رسم و رواج میں لپٹی خواتین کے حوالے سے معاشرے میں مزید حساسیت پیدا کر جاتے ہیں۔ ہم عورت کو وہ آزادی دینے کے بھی روادار نہیں ہیں جو مذہب نے آج سے چود سو سال پہلے دی تھی۔ ایسے واقعات مذہبی اجارہ داروں کو خوب بے نقاب کر جاتے ہیں، چھوٹے سے توہین کے غلط واقعے پر پورے شہر کے سگنل توڑنے والے اور چوکوں میں آگ لگانے والے جنگل کی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ نہ تو سپیکر پر گلے پھاڑ کر تقریریں کی جاتی ہیں اور نہ ہی پریس کانفرنسز کا اہتمام ہوتا ہے بلکہ بہت سے حضرات کے بیانات تو الٹا مظلوم کو مجرم بنا دیتے ہیں۔ کسی مرکزی مذہبی جماعت کی طرف سے اس واقعہ پر کوئی بڑا ردعمل نہیں آیا، جس سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں کہ معاشرے کے اخلاقی نظام کے ذمہ دار انتے بڑے معاشرتی جرم پر خاموشی کیسے اختیار کرسکتے ہیں۔؟

الیکشن کے بعد سے ہی اپوزیشن جماعتوں کا ایک بیانیہ رہا ہے کہ انہیں الیکشن میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہروایا گیا ہے اور عمران خان کو باقاعدہ منصوبہ بندی کی تحت لایا گیا۔ پہلے مرحلے میں دیگر جماعتوں کے بندے توڑے گئے اور انہیں کرپشن چارجز اور نیب کا خوف دلا کر پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا۔ دوسرے مرحلے میں پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر جماعتوں کی قیادت کے لیے عملی طور پر کمپین انتہائی مشکل کر دی گئی اور ان کی قیادت کو کیسز میں پھنسا کر میدان پی ٹی آئی کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اسی ون وے ٹریفک کے نتیجہ میں پی ٹی آئی کو الیکشن جتوا دیا گیا اور موجودہ سیٹ ایپ معرض وجود میں لایا گیا۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز  کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے مسلم لیگ کو اس پورے سیٹ ایپ سے آوٹ کر دیا گیا۔ پنجاب جہاں کی وہ اکثریتی جماعت تھی، وہاں بھی ان کی حکومت نہیں بننے دی گئی۔

ویسے تو اس طرح کے الزامات ہر ہارنے والی پارٹی لگاتی رہی ہے، مگر اس بار جو چیز مختلف ہے، وہ اداروں کا نام لے کر ان پر براہ راست تنقید کرنا ہے۔ یہ اس طرح کھلے عام پاکستانی معاشرے میں پہلی بار ہوا ہے۔ اسی لیے کل حامد میر صاحب نے جو ٹویٹ کیا، وہ اسی کی عکاسی کرتا ہے: عاصم سلیم باجوہ کے خلاف اتنا بڑا سکینڈل سامنے آیا لیکن نہ نیب حرکت میں آیا، نہ کوئی جے آئی ٹی بنی، نہ کوئی مانیٹرنگ جج سامنے آیا اور وزیراعظم کہتے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے، نواز شریف نے #APC2020 میں وہ باتیں کہہ ڈالیں، جو صرف ڈرائنگ روموں اور چوکوں چراہوں میں ہو رہی تھیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ وہ باتیں جن کو ڈرائنگ روم میں بھی انتہائی حساسیت سے کیا جاتا تھا، اب وہ ٹی وی کی سکرین پر ہو رہی ہیں اور ہر مسئلہ پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت اور فیصلہ کرنے والوں کا اچھا فیصلہ ہے کہ انہوں نے نواز شریف کی تقریر کو  روکنے کی بجائے چلانے کا فیصلہ کیا۔

اس سے حکومت کی وسعت ظرفی کا بھی اظہار ہوا اور ساتھ میں اب پی ٹی آئی ترجمان کہہ سکتے ہیں کہ وہ نواز شریف جو کانفرنسوں سے خطاب کر رہا ہے، اسے واپس آکر مقدمات کا سامنا کر چاہیئے۔ اس سے پبلک پریشر بھی نواز شریف کے خلاف ڈویلپ ہوگا۔ نواز شریف اور دیگر جماعتوں نے جو سوالات اٹھائے ہیں، یہ بہت ہی سنجیدہ سوالات ہیں، ہمارے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کا بیان چل رہا ہے کہ فوج کا ایسے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وطن عزیز کی ترقی کا راز اسی میں ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں، انہیں کسی بھی صورت میں اپنی آئینی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیئے۔

سیاست کی گرما گرمی کے ساتھ ساتھ کافی عرصے بعد مسلکی سطح پر بھی گرما گرمی دیکھی جا رہی ہے، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں اور  کچھ صحافیوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سے توجہ ہٹانے کے لیے اس بحث  کو شروع کرایا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے چترال کے جلسے میں کہا تھا کہ ایک مسلک کو دوسرے مسلک کے مقابل لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کراچی کے دونوں جلسے دیکھنے کے بعد یہی لگتا تھا کہ ایک مسلک کے خلاف ہی دوسروں کو متحد کیا جا رہا ہے، مگر اسلام آباد میں اس غبارے سے ہوا نکل گئی اور تمام تر زہریلے پروپیگنڈے کے باوجود اسلام آباد کی ریلی میں پانچ سات ہزار لوگ شریک ہوئے۔ ان کی انتہائی غیر ذمہ دار اور فرقہ وارانہ زبان درازی کی وجہ سے ان پر ایف آئی آرز بھی درج ہوچکی ہیں۔

ایسے وقت میں جب سیاست کے میدان میں گرما گرمی ہے، مسلکی بحث کا یوں ابھر جانا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق ایک مفتی صاحب کو یہ خبر ملی تھی کہ انہیں رویت ہلال کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹایا جا رہا ہے، انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا کریں؟ ایسے میں انہیں ایک غالی ذاکر کی گفتگو مل گئی اور انہوں نے اس کی بنیاد پر فرقہ وارانہ مہم کا آغاز کر دیا۔ کچھ فرقہ پرست اس کے انتظار میں تھے، انہوں نے اس کو ہوا دی۔ یہاں طاقت کے اظہار کے لیے دوسرے مسالک کو دبانا اور دھمکانا معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔ چیئرمین اسلامی نطریاتی کونسل چند ماہ بعد اپنی مدت پوری کریں گے۔ نئے چیئرمین کا انتخاب بہت قریب ہے اور حکومت خلاف معمول اس بات کی طرف مائل نظر آتی ہے کہ  وہ نیا چیئرمین ہی لائے گی، حالانکہ موجودہ چیئرمین نے بہت کم وقت اسلامی نظریاتی کونسل کو ایک نئی سمت دی ہے اور کونسل کے تشخص میں اضافہ کیا ہے۔

بہت سے ایسے معاملات آئے، جہاں حکومت اور ریاست کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوسکتے تھے، کونسل آگے بڑھی اور اس نے ان مسائل کو بہت ہی احسن انداز میں حل کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سیکولر حلقوں میں بھی کونسل ماضی کی طرح کسی تناو کا شکار نہیں ہوئی کہ میڈیا پر اس کا ٹرائل ہوتا۔ چیئرمین اسلامی نظریانی کونسل ڈاکٹر قبلہ آیاز صاحب تمام مسالک کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ان کے دور میں ہونے والے تقریباً تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے ہیں۔ اس لیے ان کو باقی رکھا جائے تو بہت اچھا اور ملک کے لیے بہت بہتر ہے۔ خیر کچھ لوگ کونسل کی چیئرمین شپ کو سٹریٹ پاور دکھا کر اپنے مسلک کے نام کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ سامنے کچھ اور دکھا رہے ہیں اور اصل میں نظر اسی پر ہے۔ ان کی مثال ہاتھی کے دانتوں کی طرح ہے، دکھانے کے اور کھانے کے اور۔

موجودہ حالات میں سیاسی تناو جو انتشار کی طرف جائے، وہ ملک کے لیے کسی طور پر بہتر نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے چاہیئے اور اگلے الیکشن کے حوالے سے ابھی ضابطہ اخلاق تیار کر لینا چاہیئے، جس کے مطابق الیکشن ہوں، جو تمام جماعتوں کو قابل قبول ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ الیکشن کے ساتھ ہی دھاندلی کا الزام لگا کر افراتفری شروع کر دی جائے۔ عہدوں کے حصول کے لیے فرقہ واریت کو ہوا دینا اور اپنی طاقت کا اظہار کرکے دوسروں کو پچھاڑنے کی سوچ رکھنا وطن عزیز کے لیے کسی بھی طور پر مناسب نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ میرٹ پر عہدوں کا انتخاب ہو۔ بیس سال ایک عہدے پر مکین رہے ہیں، اب ریٹائرڈ زندگی گزاریں، کسی اور کو اس خدمت کا موقع دیں اور ملک کو آگے بڑھنے دیں۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں