Breaking News

مولا بخش اداس ہے۔۔۔ !

میرا نام مولا بخش ہے۔ ہر اسکول جانے والا میرے نام اور کام سے اچھی طرح واقف ہے۔ چند دن پہلے تک اسکولوں میں بے تاج بادشاہ تھا۔ ہر سو میری دہشت تھی۔ بڑے بڑے طرم خان میری ہیبت سے گھبراتے تھے۔ سب کو سیدھا کرنے میں میرا کوئی ثانی نہیں تھا۔ سرکاری اسکولوں میں تو میرا جدی پشتی راج تھا۔ کئی ہیڈ ماسٹروں اور استادوں کی شہرت میرے دم سے تھی۔ مجھ سے ملاقات ہوتے ہی کئی طالب علموں کے چہرے فق ہو جاتے تھے بلکہ چیخیں نکلتی تھیں۔ کئی تو اسکولوں سے ایسا بھاگے کہ کبھی پلٹ کر نہ آئے۔ اسکول دیر سے پہنچنے والوں اور ہوم ورک نہ کرنے والوں کی مجھ سے روز کی ملاقاتیں تھیں لیکن ہاف ٹائم میں اسکول کی دیوار پھلانگ کر باہر جا کر مزے کرنے والوں کی تو تاک میں رہتا تھا اور واپسی پر ایسا شاندار استقبال کرتا کہ ۔۔۔ خیر چھوڑئیے۔۔ ہر عروج کو زوال ہے۔۔۔ میرا بھی زوال آہی گیا۔ زمانہ بدلا زمانے کے انداز بدلے۔ سرکار نے میرے اسکول میں کام کرنے پر پابندی لگا دی کیونکہ کچھ لوگوں نے میری شہرت کا غلط استعمال کرنا شروع کردیا۔ میری دہشت سدھارنے کے بجائے اور بگاڑنے کا سبب بننے لگی۔ اپنی کسی محرومیوں کے بدلے میرے ذریعے معصوم بچوں پر نکلنے لگے۔ میری شہرت داغدار ہونے لگی۔ ہر طرف سے مجھ پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ہر برائی کا میں ذمہ دار ٹھہرا۔ ۔۔ نیا قانون پاس ہوا اور میں معطل ہو گیا۔ میں اسکول میں موجو د تو ہوں لیکن اب میری حیثیت اس ایٹمی ہتھیار کی طرح ہو گئی ہے جسے دکھا کر ڈرایاتو جا سکتا ہے لیکن چلایا نہیں جا سکتا۔ مجھے معطل ہونے کی ہر گز پرواہ نہیں کیونکہ میں کبھی بھی سرکار پر بوجھ نہیں تھا لیکن اب فکر اس بات کی ہے کہ جو کام میں رضاکارانہ انجام دیتا تھا وہ نئے قانون کے بعد کیسے انجام پائیں گے، بچوں کو ڈسپلن کون سکھائے گا؟ استاد کی رٹ کیسے قائم ہو گی؟ ۔۔۔ یہ تو قانون بنانے والے جانیں۔۔۔ میرا تو اسکولوں سے دیس نکالا ہو گیا ۔۔ شرارتی بچوں کو میں اب بھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہوں لیکن کچھ نہیں کرسکتا۔ میرے کچھ رشتہ دار محکمہ پولیس میں پکی نوکری پر ہیں اور بڑی عیش والی زندگی گزار رہے ہیں۔۔ سوچ رہا ہوں کچھ عرصہ چھترول والے ماحول میں گزار آؤں۔ ۔۔ شاید میری یاد آجائے میرے جانے کے بعد۔۔۔ آپ کا مولابخش!!!

About AWAAZ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)