Breaking News
برطانیہ میں خطرے کی سطح کب کب بڑھی اور کیوں؟

برطانیہ میں خطرے کی سطح کب کب بڑھی اور کیوں؟

برطانیہ کے لیے دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو انتہائی حد تک بلند کر دینا کیوں غیر معمولی ہے اور مانچیسٹر حملے کے بعد جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے، اس بات کا خدشہ کیوں ہے کہ کسی بھی وقت ایک اور حملہ ہو سکتا ہے؟

بی بی سی کے نامہ نگار کہتے ہیں کہ مانچیسٹر حملے کے اگلے ہی دن برطانیہ کی سکیورٹی سروسز بہت تفتیش و تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ ملک میں دہشت گردی کا امکان اتنا بڑھ گیا ہے کہ خطرے کی سطح کو ‘کریٹیکل’ یا ‘انتہائی نازک’ سطح پر لانا ضروری ہو گیا ہے۔

مانچیسٹر حملہ: مزید تین افراد گرفتار

مانچیسٹر حملہ: سلمان عبیدی کون تھا؟

یہ سطح خطرے کی آخری حد ہے یعنی دہشت گرد حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ برطانیہ میں پچھلے دس برس کے دوران کبھی بھی دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو اس سطح پر نہیں لایا گیا۔ لہذا یہ تیسری مرتبہ ہے کہ برطانیہ نے دہشت گردی کے خطرے کی حد کو انتہائی نازک سطح تک بڑھا دیا ہے۔

خطرے کی سطح کب کب بڑھائی گئی؟

پہلی بار دہشت گردی کے خطرے کی سطح ‘کرٹیکل’ یا انتہائی نازک کی حد تک 2006 میں بڑھائی گئی تھی۔ اس وقت دہشت گردوں کا منصوبہ مائع بم بنا کر فضا میں جہازوں کو تباہ کرنے کا تھا لیکن سکیورٹی فورسز اور انٹیلیجینس سروسز نے بروقت اس کا پتہ چلا لیا۔

آج بھی ایک خاص حد سے زیادہ لیکئوڈ یا مائع جات کا جہازوں کے کیبن میں لے جانا منع ہے۔

جہازوں کو فضا میں تباہ ہونے سے بچا لیا گیا لیکن اس کے پیچھے سکیورٹی فورسز اور انٹیلیجینس سروسز کے درمیان مشترکہ معاونت اور پھر مشترکہ کارروائی تھی۔

چونکہ دہشت گردی کا بڑا منصوبہ اپنی موت مر گیا تھا لہذا ملک میں خطرے کی سطح کو کم کر دیا گیا۔

لیکن جب دو ہزار سات آیا تو دہشت گرد حملوں کی سطح ایک مرتبہ پھر انتہائی حد تک پہنچ گئی۔

ہوا یہ کہ حکام کو لندن کے ایک نائٹ کلب کے قریب دو ایسی گاڑیاں ملِیں جن میں بم نصب تھے جنھیں بروقت ناکارہ بنا دیا

گیا۔ لیکن اس کارروائی کے صرف ایک دن بعد گلاسگو میں ہوائی اڈے کے قریب کار بم حملہ کیا گیا۔

جولائی 2007 کے بعد دہشت گرد حملوں کے خطرے کی سطح ‘کافی امکان’ سے ‘بہت زیادہ امکان’ کے بیچوں بیچ ہی رہی کبھی نیچے نہیں گئی۔ یعنی یہ کہ برطانیہ میں دہشت گرد حملے کے خطرے کی سطح’معتدل’ یا ‘کم’ پر نہیں آئی۔

لیکن اب تیسری مرتبہ پھر مانچیسٹر حملے کے بعد دہشت گردی کے حملے کی سطح کو انتہائی درجے تک بڑھایا گیا ہے۔

خطرے کی حد کیا ہونی چاہیے اس کا فیصلہ کون کرتا ہے؟

دہشت گردی کا خطرہ کتنا ہے اور اس کی سطح کیا ہونی چاہیے۔ اس بات کا فیصلہ برطانیہ کا ایک خاص محکمہ کرتا ہے جسے جوائنٹ ٹیررازم انیلیسس سینٹر کہتے ہیں۔

کسی بھی فیصلے پر پہنچنے کے لیے اس محکمے کے ماہرین مشتبہ حملہ آوروں کی صلاحیتوں، ممکنہ حملوں کے امکان اور دستیاب معلومات اور تخمینوں سے اندازے لگاتے ہیں۔

اور یہی وہ عوامل ہیں جن کی بنا پر حکومت نے فوری خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاص یا معلوم امکان سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔

انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے کے سربراہ مارک راؤلی کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ‘تفتیش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال’ کی بنا پر کیا گیا۔

گورڈن کوریرا بی بی سی کے سکیورٹی امور کے ماہر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مانچیسٹر میں جو بھی ہوا اس کے بعد برطانیہ کی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جینس سروسز یہ جاننے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں کہ کیا دہشت گردوں کا کوئی نیٹ ورک مزید حملے کی تیارں تو نہیں کر رہا اور کر رہا ہے تو کہاں اور اس کی بیخ کنی کیسے کی جا سکتی ہے؟

About Faiza Abbas

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)