دبئی:اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کے حوالے سے سودے بازی کی بنیاد پر ایک پیش کش سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع ایوگیڈرو لائبرمین نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس کی جانب سے سرنگوں کی تعمیر اور راکٹ داغنے کا سلسلہ ختم کر دیے جانے کی صورت میں غزہ کی گزرگاہوں کو کھول دیا جائے گا اور غزہ پٹی کی بیرونی ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے باور کرایا کہ جب تک معاملات پرسکون ہیں اس وقت تک اسرائیل غزہ پٹی میں حماس کے ساتھ کسی بھی جنگ میں دل چسپی نہیں رکھتا ہے تاہم اگر جنگ مسلط ہوئی تو وہ کہیں زیادہ مشکل بلکہ شدید ترین ہوگی اور حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ختم کر دیا جائے گا۔ لائبرمین کے مطابق اگر چوتھی مرتبہ جنگ چِھڑ گئی تو وہ 2014 کی آخری جنگ کی طرح طویل نہیں ہوگی جو 50 روز تک جاری رہی بلکہ آئندہ جنگ انتہائی درد ناک ہوگی۔

اسرائیلی وزیر کا یہ بیان جمعے کے روز حماس کی جانب سے غزہ پٹی میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ احتجاج فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری فیصلوں پر تھا۔

عربی روزنامے الحیات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ پٹی میں اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 سے 70 فی صد کی کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کو توانائی کی مد میں ادائیگی بھی روک دی گئی ہے جس کے تحت اسرائیل غزہ پٹی کو 125 میگا واٹ بجلی فراہم کرتا ہے۔