Breaking News
وزیراعظم کا کمیونٹی خطاب سفارتخانےاورمسلم لیگی ورکروں پر مشتمل تھا،پاکستانی کمیونٹی

وزیراعظم کا کمیونٹی خطاب سفارتخانےاورمسلم لیگی ورکروں پر مشتمل تھا،پاکستانی کمیونٹی

نیویارک (شبانہ فریال/بیورورپورٹ)پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے ایک چھوٹے سے کمرے میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب اورملاقات کی۔کمیونٹی سے ملاقات میں زیادہ تر مسلم لیگ ن امریکہ کے لوگ شامل تھے۔وزیر اعظم سے ملاقات پر مسلم لیگ ن امریکہ کے درمیان پھوٹ پڑ گئی کیونکہ ہر شخص چاہتا تھا کہ وزیر اعظم سے ملے لیکن کمرہ چھوٹا ہونے اور ناخوشگوار واقعہ کے پیش نظر قابل اعتماد افراد کو ہی بلایا گیا تھا۔ماضی میں جب بھی کوئی پاکستانی سربراہ مملکت امریکہ گیا تو اس کے خطاب کیلئے ہمیشہ بڑی جگہ کا انتخاب کا جاتا تھا اور امریکہ میں آباد پاکستانیوں کو یہ موقع فراہم کیا جاتا تھا کہ وہ پاکستان کی صورتحال اور حکومت کی کارکردگی سے آگا ہ ہو سکیں ۔اس دفعہ ”گو نوازگو“مہم کی وجہ سے نواز شریف کافی محتاط ہو چکے ہیں اور اس کیلئے پاکستانی سفارتخانے کو خاص طور پر ہدایات کی گئی تھی کہ کمیونٹی سے خطاب کے دوران کمرے میں کسی کونے سے ”گو نوازگو“ کا نعرہ بلند نہیں ہونا چاہیے جس پرن لیگ امریکہ کی پارٹی قیادت نے اپنی مرضی سے کارکنوں کا انتخاب کیا اور تقریبََا 50افراد کو وزیراعظم کی تقریر سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔ کیونکہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کمیونٹی سے ملاقات کی تقریب میں شامل افراد کی جانب سے ’گونوازگو‘ کے نعروں سے وزیر اعظم کی سبکی ہو سکتی ہے۔پاکستانیوں سے ملاقات میں ٹی وی چینل اے آر وائی کو کوریج سے روک دیا گیا۔
نیویارک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اس بات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس اہم موقع پر چھوٹے سے کمرے کا انتخاب کیوں کیا گیا۔پاکستانی کمیونٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم اس قدر خوفزدہ کیوں ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے ہم وطنوں سے ملتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کمیونٹی کا ردعمل
امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز ٹیوٹر اور فیس بک پر اپنے پیغامات میں کمیونٹی سے وزیر اعظم کے خطاب کوایک مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیونٹی خطاب سے زیادہ امریکہ میں پاکستانی سفیر سمیت سفارتخانے کے ملازمین اور ن لیگ کے کارکنوں پر مشتمل ایک گروپ تھاجس سے وزیراعظم میاں نواز شریف نے خطاب کرکے ایک رسم پوری کی اور اس سے زیادہ ”گونوازگو“کے نعروں سے بچاﺅ تھا۔مسلم لیگ ن امریکہ کہ کارکنوں نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خطاب میں زیادہ تر خوشامدی لوگوں کی بلایا گیا تھاجس کا ثبوت وزیر اعظم کی تقریر کے بعد کمرے میں خوشامدی نعروں کا لگایا جانا تھا۔جبکہ پی ٹی آئی کہ کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ”گو نوازگو“ لکھنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔پیرس سے ایک صاحب نے لکھا ہے کہ”یار اتنے دوست تو ہم ویسے ہی اکٹھے ہوجاتے ہیں کھانے پر“

About AWAAZ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)