Breaking News

کابینہ جرات مندانہ فیصلے پر مبارکباد کی مستحق

وفاقی کابینہ کی جانب سے گوادر پورٹ چین کو دینے اور ایران گیس منصوبہ مکمل کرنے کی منظوری….کابینہ جرا¿ت مندانہ فیصلے پر مبارکباد کی مستحق
امریکی دباو¿ کے باوجود وفاقی کابینہ نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کی منظوری اور منصوبے کو جنوری 2015ءتک مکمل کرنے کی ہدایت جاری کرکے ایک جرتمندانہ فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے گوادر پورٹ سنگاپور کی کمپنی سے لے کر چین کی اوورسیز پورٹ ہولڈنگ لمیٹڈ کمپنی کو دینے اور پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جنوری 2015ئ تک مکمل کرنے کی منظوری دے دی۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان ایران گیس منصوبے پر عالمی دبا? قبول نہ کرنے کا فیصلہ دہرایا گیا۔ اس منصوبے کیلئے ایران پاکستان کو آسان شرائط پر پانچ سو ملین ڈالر کا قرض بھی فراہم کریگا۔ وفاقی کابینہ نے اس منصوبے کی تکمیل کیلئے خزانہ‘ قانون و انصاف‘ پٹرولیم‘ قدرتی وسائل کے وزراءاور گورنر سٹیٹ بنک پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ کابینہ کے فیصلے کے تحت پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل کا ٹھیکہ ایرانی کمپنی کو دیا جائیگا۔ اس سلسلہ میں کابینہ نے متعلقہ اداروں کو اس منصوبے سے متعلق تحفظات دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔ کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ چین نے گوادر پورٹ کی تعمیر کیلئے ابتدائی طور پر اڑھائی سو ملین ڈالر کے فنڈز فراہم کئے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ چین اور ایران ہمارے اچھے ہمسائے ہی نہیں‘ ہمارے قابل اعتماد دوست ممالک بھی ہیں جن کے ساتھ تجارتی‘ اقتصادی مراسم استوار کرنا اور دفاع و توانائی کے شعبوں میں ان سے معاونت حاصل کرنا ہماری ضرورت بھی ہے‘ چین کے ساتھ ہماری دوستی گزشتہ چھ دہائیوں سے استوار ہے‘ جس میں 70ئ کی دہائی میں امریکہ کے چین کے ساتھ رابطے کیلئے پاکستان کے معاونت کے کردار نے پاک چین دوستی میں اپنائیت اور اعتماد کا رنگ بھی بھرا اور اسی تناظر میں پاک چین دوستی کو ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی کہا جاتا ہے جو محض رسماً نہیں فی الحقیقت پائیدار و مستحکم دوستی ہے اور اسی تناظر میں پاک چین دوستی علاقائی مفادات کی بنیاد پر امریکہ اور بھارت کو کھٹکتی ہے۔ چین نے 65ءاور 71ءکی پاک بھارت جنگوں کے دوران پاکستان کا سفارتی سطح پر بھی اور دفاعی حوالے سے بھی بھرپور ساتھ دیا تھا جبکہ بھارت کے ساتھ اروناچل پردیش کے تنازعہ میں پاکستان نے بھی چین کا کھل کر ساتھ دیا اور اسی پس منظر میں پاکستان اور چین کو بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کے توڑ کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کرنے اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی طے کرنے کا احساس ہوا تھا جس کی بنیاد پر گزشتہ سال پاکستان اور چین کے مابین توانائی کے شعبوں میں تعاون کے علاوہ دفاعی تعاون کے بھی متعدد معاہدے طے پائے اور اسی دوران گوادر پورٹ کو مشترکہ نیول بیس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور آیا جو کسی بھی بیرونی جارحیت کے دفاع کیلئے دونوں ممالک کے مابین دفاعی حصار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے یقیناً اسی تناظر میں گوادر کو چین کی اوورسیز پورٹ کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ملک کے دفاع کے نکتہ نظر سے بھی خوش آئند ہے جبکہ چین کی مدد سے گوادر میں ترقیاتی کام ہونے سے گوادر کو انٹرنیشنل پورٹ کا درجہ بھی حاصل ہو جائیگا جس سے ملک کی معیشت بھی مستحکم ہو گی اور اس سے اقتصادی ترقی کے راستے بھی کھلیں گے جبکہ گوادر کے ترقیاتی کاموں پر پاکستان کے خزانے پر کوئی اضافی بوجھ بھی نہیں پڑیگا۔ گوادر منصوبے کیلئے چین کی جانب سے پاکستان کو ابتدائی طور پر پہلے ہی 250 ملین ڈالرز کے فنڈز فراہم کئے جا چکے ہیں جبکہ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان چین دوستی کو ہی چار چاند نہیں لگیں گے‘ باہمی تعاون سے ملک کے دفاع کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا اس لئے حکومت پاکستان کا کسی بیرونی دباو کی پرواہ کئے بغیر گوادر منصوبے کو چین کے تعاون سے پایہ تکمیل کو پہنچانا ملک کے مفاد میں درست اور قابل تحسین فیصلہ ہے۔ اسی طرح پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بھی کسی بیرونی دباوکو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تکمیل کا فیصلہ وفاقی کابینہ کا ملکی اور قومی مفادات کے حوالے سے بہترین اور دوررس اثرات کا حامل ہے۔ ایران کیخلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کے تناظر میں اگرچہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کھٹائی میں پڑتا نظر آتا تھا جسے ترک کرنے کیلئے امریکہ کی جانب سے متعدد بار پاکستان پر دھمکی آمیز لہجے میں دباو بھی ڈالا گیا‘ لالچ بھی دیا گیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں جبکہ گزشتہ روز بھی امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی جانب سے پاکستان کو باور کرایا گیا ہے کہ ایران گیس منصوبے پر امریکہ کے تحفظات و خدشات برقرار ہیں‘ اسکے باوجود وفاقی کابینہ نے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک آزاد ریاست کا بہترین قومی مفاد میں فیصلہ کرنے کی بہترین مثال ہے جبکہ اس منصوبے کی تکمیل کیلئے ایران پاکستان کو آسان شرائط پر پانچ سو ملین ڈالر کا قرض بھی فراہم کر رہا ہے‘ یقیناً اس منصوبے کی تکمیل سے جہاں ہمیں توانائی کے سنگین بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور گیس کی قلت اور لوڈشیڈنگ کے نتیجہ میں بند ہونیوالا صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کا پہیہ سبک خرامی سے چلنا شروع ہو جائیگا‘ وہیں برادر پڑوسی ملک کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی‘ اقتصادی اور دفاعی تعاون کرتے ہوئے بہترین علاقائی مفاد میں اس خطے میں اسلامک بلاک کی تشکیل کی راہ بھی ہموار ہو جائیگی۔
اس وقت پاکستان کی طرح ایران کو بھی امریکہ کی جانب سے اپنی سالمیت کیلئے خطرات لاحق ہیں اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے الزام میں ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے امریکہ نے اسے عالمی برادری میں جس طرح تنہاءکرنے کی کوشش کی ہے ‘ وہ اسرائیل کے ساتھ‘ اس ہی تناظر میں ہونیوالے برتاو کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان بھی ایسے دہرے معیار سے واقف ہے۔ جہاں بھارت کو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی پر دستخط کئے بغیر ہی سول نیوکلیئر معاہدے سے نوازا گیا اور پاکستان کی اس ہی قسم کے معاہدہ کی گزارش کرنے پر حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اس تناظر میں بھی پاکستان اور ایران کے مفادات اور دکھ سکھ سانجھے ہیں اور اب پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے دونوں ممالک میں دوستی مزید پائیدار ہو گی جو علاقائی مفادات کے تناظر میں بھی خوش آئند ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب چین اور ایران کے ساتھ قائم ہونیوالے باہمی اعتماد کے رشتوں میں مزید گہرائی لائی جائے اور علاقائی تعاون کی بہترین مثال قائم کرکے پاکستان کے مستقبل کیلئے پاکستانی عوام کے مکمل اعتماد سے ہر وہ فیصلہ کرتے جائیں جو ہماری آنیوالی نسلوں کے حق میں کیا جانا چاہیے۔ اس وقت بھارت کنٹرول لائن پر کشیدگی کی فضا پیدا کرکے ہمیں جنگ سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے ہماری سالمیت کو جن خطرات سے دوچار کر رہا ہے‘ اس کا توڑ چین اور ایران کے ساتھ تجارتی‘ اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دیکر ہی کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی کابینہ کے ان فیصلوںسے پاکستان مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہےگا کہ وہ خطے میں تنہائنہیں اور کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں چین اور ایران جیسے دوست اسکے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔

About AWAAZ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)