Breaking News
چار روزہ ورلڈ پیس فورم لکسمبرگ میں اختتام پذیر ہو گیا۔

چار روزہ ورلڈ پیس فورم لکسمبرگ میں اختتام پذیر ہو گیا۔

لکسمبرگ: شینگن پیس فاؤندیشن کے زیرِ اہتمام 8ویں چار روزہ ورلڈ پیس فورم کااہتمام یورپی پارلیمنٹ لکسمبرگ کیا گیا۔جس میں 50ممالک سے 350ممبران نے شرکت کی۔ ورلڈ پیس فورم کے صدر ڈومینکس دنیا بھر سے انسانیت سے محبت کرنے والے اہم اداروں کے نمایاں افراد کو ہر سال اکٹھا کرتے ہیں اور جن میں تقریباً تمام برِ اعظموں سے سیاست، علم و ادب، صحافت کے علاوہ مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو بلاتے ہیں اور دنیا کے مختلف مسائل کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔اس بارایک دن پاکستان اور اس کے مسائل کو موضوع بنایا گیا۔اس فورم میں شرکت کے لئے پاکستان سے ایوانِ صدر کے ڈائریکٹر جنرل کوآرڈینیٹر نوید الٰہی، روزنامہ پاکستان کے ریزیڈینٹ ایڈیٹر سہیل چوہدری، آواز ڈیلی کے ایڈیٹر عمران ثاقب چوہدری اور انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر عدنان فاروق کے پاکستان کی طرف سے اور مقبوضہ کشمیر سے کشمیر انفو کے چئیرمین میر شاہ جہاں نے شرکت کی۔
نوہد الٰہی نے پاکستان میں موجود طالبان ، القائدہ اور اس کی پاکستان دشمنی کے بارے میں تفصیل سے بتایا، انہوں نے وہاں موجود تمام گروپ اور ان کے پاس موجود وسائل و صلاحیتوں کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اکیلے پاکستان کے بس کی بات نہیں ہے، اس جنگ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہمیں بین الاقوامی کمیونیٹی کی ضرورت ہے۔سہیل چوہدری نے خِطے کے اہم ترین مسئلے کشمیر کے بارے میں تفصیلاً شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں ہندوستان کی فوجوں نے جو جارحیت کی تھی وہ ابھی تک جاری ہے۔ بین الاقوامی ادارے اگر چاہیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن ہندوستان کے مظالم جاری ہیں اور اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قراردوں کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں کروایا جا رہا۔ عمران چوہدری نے آپریشن ضربِ عضب کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گرد نہ زمین سے اُگے ہیں اور نہ ہی آسمان سے اُتارے گئے ہیں، ان کو پیدا کرنے کا اعترافِ جُرم ہلیری کلنٹن متعدد بار کر چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ تیس سال سے ان لوگوں کی ذہنی اور عسکری تربیت کی جاتی رہی اور اب ان کو ایک ہی جھٹکے میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے چار وں اطراف سے ان کو گھیرنا پڑے گا۔ فوج ان کو ان کی بِلوں تک سے نکال باہر لائے، حکومت تمام اداروں اور عوام کو ایک پیج پر لے کر آئے ، تعلیمی ادارے اور میڈیا لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کرے تاکہ وہ جنگ میں بھر پور انداز میں حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امن کے لئے لازم ہے کہ یہ آپریشن کامیاب ہو اور پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔ عدنان فاروق نے دہشت گردوں سے اس جنگ کے بعد ہونے والی تباہی میں نقصانات اور اس کی دوبارہ بحالی کے لئے بین الاقوامی کمیونیٹی کے ممکنہ کردار کے علاوہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے پاکستان سے رویئے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ان بین الاقوامی اداروں کو پاکستان کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا پڑے گا ۔
فورم کے ایک مباحثے کے دوران کشمیر انفو کے چئیرمین میر شاہ جہاں نے شرکاء کو بتایا کہ بھارت کے زیرِ کنٹرول کشمیر میں مظالم کی انتہا ہو چکی ہے۔ انہوں نے عورتوں کے آبرو ریزی، بے گناہ اور پر امن جوانوں کے قتل اور بنیادی حقوق کے نہ دئے جانے پر تفصیل سے گفتگو کی۔ ورلڈ پیس فورم کی انتظامیہ نے پاکستان کی جانب سے شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔

About Imran Saqib

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)